گذشتہ برس اکتوبر کے آخر میں غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کے بعد سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پردے کے پیچھے اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کی ہدایات اور غزہ کی پٹی میں جنگ کے سلسلے میں امریکی صدر کے "مشورے" کی مخالفت کی ہے۔
جب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو امریکی انتظامیہ بہ ظاہر حزب اللہ کے خلاف "پیجر بم دھماکوں" سے لے کر جماعت کے رہ نما حسن نصر اللہ کے قتل تک کئی اسرائیلی کارروائیوں سے حیران تھی۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس تناظر میں متعدد امریکی حکام نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ وہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی اقدامات سے بار بار حیران رہ گئے کیوںکہ انہیں ان حملوں کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔
گیلنٹ کا دورہ ملتوی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ امریکہ اس کے بارے میں مزید جان لے گا کہ اسرائیل کیا سوچ رہا ہے۔اس سے قبل کل بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے درمیان ہونے والی تھی۔ امریکیوں کا خیال تھاکہ اس ملاقات میں انہیں اسرائیلی منصوبے کا علم ہوجائے گا مگراس ملاقات کو ملتوی کردیا گیا۔
اس تناظر میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ نیتن یاہو نے گیلنٹ کو منگل کی شام امریکہ جانے سے روک دیا جب کہ تل ابیب ایران میں اپنے آپریشن کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ ابھی تک ایران کے خلاف متوقع اسرائیلی حملے کے وقت سے آگاہ نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ایران میں اس کے ممکنہ اہداف کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گذشتہ روز گیلنٹ کے ساتھ انتہائی متوقع ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع سے ممکنہ اہداف سمیت حملے کے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کرنے کی توقع تھی۔
لیکن امریکی حکام نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ آیا انہوں نے اسرائیل سے یہ ضمانتیں حاصل کی ہیں کہ واشنگٹن کو تہران کے خلاف متوقع اسرائیلی حملے سے پہلے مطلع کر دیا جائے گا۔
ایٹمی تنصیبات پر حملہ؟!
اس کے علاوہ کچھ امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ اسرائیل اس حملے سے زیادہ بڑے حملے کر سکتا ہے جو اس نے گذشتہ اپریل میں کیےتھے جب اس نے ایران میں میزائل شکن نظام کو نشانہ بنایا تھا۔
لیکن انہوں نے جوہری مقامات اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور اس کے بجائے ایران کے فوجی اور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا۔
رواں ماہ کی پہلی تاریخ کو اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے اگلے دن ایک پریس کانفرنس کے دوران بائیڈن نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے سے باز رہے۔
بہت سے اسرائیلی حکام نے کہا کہ تمام آپشنز بحث کے لیے میز پرموجود ہیں۔ ان میں ایرانی جوہری تنصیب یا حتیٰ کہ ایرانی صدارتی کمپلیکس اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپلیکس کے ساتھ ساتھ تہران میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر "اسرائیلی حملوں" نے ایران کے اندر موجود مقامات کو نشانہ بنایا تو پچھلی بار سے زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے ایک ٹیلی گرام چینل کے ذریعے اسرائیل کو اس کے حساس مقامات کے نقشے شائع کرکے پیغام دیا ہےتہران اسرائیل کے اندر حساس اور تزویراتی نوعیت کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔