جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں سے لبنان کے سرحدی شہروں میں ہزاروں عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔ اخبار نے سیٹلائٹ امیجز اور ویڈیو کلپس کے تجزیے کی بنیاد پر بتایا کہ سرحدی علاقے میں کم از کم 5,858 عمارتیں متاثر ہوئیں۔ اسرائیل کے ساتھ سرحد پر واقع 25 قصبوں میں تقریباً 25 فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
اکتوبر کے اوائل میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے زیادہ تر نقصان ہوا۔ اس وقت سے تباہی کی حد ہر دو ہفتوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ ویڈیوز کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کنٹرول شدہ دھماکوں میں کم از کم 9 مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا۔
قبل ازیں پلانیٹ لیبز کی جانب سے رائٹرز کو فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں 12 سے زیادہ سرحدی قصبوں اور دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان میں سے بہت سے گرے کریٹرز کے گروپوں میں تبدیل ہو گئے۔ ان میں سے بہت سے قصبے کم از کم دو صدیوں سے آباد تھے اور اب اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب خالی ہو چکے ہیں
جن تصاویر کا جائزہ لیا گیا ان میں جنوب مشرقی لبنان کے علاقے کفر کلا اور جنوب میں میس الجبل گاؤں کے درمیان کے علاقے شامل ہیں۔ پھر مغرب میں لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) کے زیر استعمال اڈے ہیں اور آگے گاؤں لبونۃ الصغیرہ تک پہنچنے والے قصبے شامل ہیں۔
رائٹرز نے اکتوبر 2023 میں لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ ستمبر اور اکتوبر 2024 میں لی گئی تصاویر سے کیا۔ گزشتہ ماہ کے دوران جن دیہاتوں کو واضح نقصان پہنچا ہے ان میں سے بہت سے ایسی پہاڑی چوٹیوں پر واقع ہیں جہاں سے اسرائیل کا نظارہ ہوتا ہے۔ اسرائیل نے تقریباً ایک سال کی سرحد پار سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد 23 ستمبر سے جنوبی لبنان اور دیگر علاقوں پر حملے تیز کر دیے تھے۔