یوکرین اور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کرنے کو تیار : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آنے والی انتظامیہ کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کا خاتمہ کرنے میں مدد دے گی۔

طیب ایردوآن نے اس اعتماد کا اظہار امریکی صدر کی جیت کے اعلان کے ایک روز بعد بڈاپسٹ میں کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 نومبر کے صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن اور تاریخ سازکامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا ' اگر امریکی انتظامیہ کو ہم اس اپروچ یا طرز فکر کی حامل دیکھتے ہیں کہ وہ ایشوکو حل کرنا چاہتی ہے تو ہم جنگ کے بآسانی ختم ہونے کی صورت دیکھ سکتے ہیں۔ ترکیہ کے خبر رساں ادارے 'اناطولو' کے مطابق صدر طیب ایردوآن دوران پرواز اپنے طیارے میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا ' زہادہ ہتھیار، زیادہ بم چلائے جائیں گے تو یہ آسان نہیں ہوگا کہ کوئی بھی جنگ خاتمے کی طرف بڑھ سکے۔ سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے ہی امن کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ '

ترک صدر ایردوآن کے امریکہ کے کھرپ پتی نو منتخب صدر کے ساتھ ان کے پہلے دور صدارت میں اچھے تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ شمال مشرقی شام میں امریکی فوجوں کی موجودگی کے بارے میں بات کروں۔ جو کردوں کے مسلح گروپوں کو مدد دے رہی ہیں۔ اس تناظر میں ہم شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کے امکانات کا بھی جائزہ لے سکیں گے اور اس امرپر بھی بات کریں گے کہ کس طرح امریکی فوج دہشت گرد گرپوں کی مدد سے رک سکتی ہے۔

واضح رہے انقرہ کے مطابق 'وائے پی جے' کالعدم قرار دی گئی کردوں کی 'پی کے کے' نامی جماعت کا ذیلی گروپ ہے۔ جس نے ایک دہائی پہلے ترکیہ میں بغاوت کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اپنے ذاتی رابطوں کے ذریعے ان چیزوں کو ممکن بنا سکیں گے۔ ان کا اصرار تھا کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی گی۔ جیسا کہ انہیں ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ٹرمپ سے کمیونیکشن میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔

ایردوآن نے کہا کہ ہم ایک دن میں چوبیس گھنٹے تک آپس میں رابطے میں رہے۔ تاکہ سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل نکال سکیں۔

مشرق وسطیٰ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا وہ ٹرمپ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ اسرائیل کو کہہ دے گا 'اب رک جاؤ' ۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بائیڈن کے دور کی پالیسیوں کو جاری رکھ کے مسائل کو مزید گہرا اور لڑائی کو وسیع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے تجویز کیا کہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی میں کٹ لگایا جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے کا یہ ایک مناسب موقع ہوگا۔ تاکہ غزہ اور لبنان میں جنگیں ختم ہو سکیں۔

ترکیہ کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ دراصل ٹرمپ نے بہت محنت کی۔ حتیٰ کہ اس نے قاتلانہ حملہ بھی برداشت کیا۔ لیکن ہمت نہیں ہاری۔ بلکہ بہت ہی ، بہت ہی مضبوطی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھا۔ حالانکہ ان پر کافی دباؤ کے حالات تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے مسائل سے نمٹنے کا یہ امتحان کامیابی سے پاس کر لیا ہے۔ وہ اس دوران نہ ہمت ہارے ہیں نہ تھکے ہیں اور بالآخر جیت گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں