امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس کو بے دخل کر دیا ۔ ان کی جیت کے بعد بہت سی نظریں شام پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ اس جنگ زدہ ملک کے حوالے سے نئے صدر کی پالیسیاں ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔ یاد رہے شام اور پڑوسی عراق میں داعش کے خلاف واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے اندر امریکی افواج موجود ہیں۔
ٹرمپ شام کے معاملے سے کیسے نمٹیں گے؟ اس حوالے سے سوالات اس لیے بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ کیونکہ انہوں نے 2019 میں شامی علاقوں سے اپنی افواج کے انخلاء کا حکم دیا تھا۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے امریکی "مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ" فار نیئر ایسٹرن سٹڈیز میں شامی پروگرام کے مشاورتی بورڈ کے رکن شامی نژاد امریکی محقق وائل السوّاح نے کہا کہ "کوئی بھی کسی بین الاقوامی مسئلے پر نئی امریکی صدر کے موقف کی پیش گوئی نہیں کرسکتا۔ ٹرمپ کے موقف اپنے کارکنوں کے حوالے سے تبدیل ہوتے ہیں۔
شامی نژاد امریکی محقق وائل السوّاح نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے بیانات میں یہ بھی کہا کہ کسی بھی معاملے پر ٹرمپ کے موقف دو عوامل سے مشروط ہوتے ہیں۔ ایک ان کا ذاتی مزاج اور دوسرا مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے ٹرمپ کے بارے میں رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے بیانات اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ افواج کے درمیان تنازعات میں امریکی فوجی توپ کا ایندھن بن جائیں گے۔ فوجوں کے انخلا اور فوجی مصروفیات کو کم کرنے کا ان کا ارادہ نئے صدر کی ان تنازعات میں امریکی شمولیت کی دیرینہ مخالفت کی بنا پر ہے۔ ٹرمپ براہ راست مفادات نہ ہونے والے تنازعات سے باہر نکلنے کے خواہاں رہے ہیں۔
فوجی موجودگی کو کم کرنا
اس کے علاوہ وائل السوّاح نے نشاندہی کی کہ علاقائی استحکام کی حکمت عملی میں ٹرمپ کا شام کے بارے میں یہ نقطہ نظر شامل ہے جو داعش کے خلاف جنگ میں ان قوتوں کی سٹریٹجک اہمیت کے باوجود امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا امریکی موجودگی کو کم کرنے سے انتہاپسند گروپوں کے دوبارہ سر اٹھانے کا باعث بنے گا۔
جہاں تک اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کے بارے میں امریکی صدر کے موقف کا تعلق ہے تو وائل السوّاح نے کہا کہ ماضی میں ٹرمپ کا ان کے لیے فیصلہ کن مؤقف نہیں تھا اور وہ آنے والے دور میں بھی نہیں رہے گا کیونکہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آیا بشار الاسد رہتے ہیں یا چلے جاتے ہیں۔
شامی نژاد امریکی تجزیہ کار نے کہا کہ یہ امکان موجود ہے کہ ٹرمپ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش میں اسرائیل کی حمایت کریں گے اور ضمنی طور پر شام کی بھی حمایت کریں گے۔
داعش کا خطرہ
کرد سینٹر فار سٹڈیز کے ڈائریکٹر نواف خلیل نے اس حوالے سے نشاندہی کی ہے کہ "آئی ایس آئی ایس سے لڑنے کا معاملہ صرف کرد یا شامی معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی اتحاد کا تسلسل موجود ہے۔ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ شراکت داری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ آئی ایس آئی ایس (داعش) کے خطرناک ہونے سے سب سے زیادہ باخبر ہے۔ داعش کے زیر حراست کارکنوں کی تعداد 12000 ہے۔ الھول اور روج کے کیمپوں میں ان کارکنوں کے اہل خانہ موجود ہیں۔ ان کے بچے خواتین صحافیوں کو اس بنا پر ذبح کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں کہ انہوں نے پردہ نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ داعش کے نظریات کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔
نواف خلیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے بیانات میں مزید کہا کہ کوئی بھی قطعی طور پر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ امریکی صدر کیا سوچ رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امریکی انخلا کے بعد ایک مختلف نوعیت کے حالات بدلیں گے۔
سابق صدر براک اوباما کے دور میں خطے سے امریکی انخلا رک گیا تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد خطے میں صورتحال بہت بدل گئی ہے۔ ۔ نواف خلیل نے استفسار کیا کہ کیا امریکی صدر کے لیے شام کا میدان ایران اور اس کی ملیشیا کے لیے یا روس کے لیے چھوڑنا مناسب ہے۔ انہوں نے کہا وہ انخلا سے گریز کریں گے خاص طور پر اس لیے بھی جب انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے ترک ہم منصب کے دھوکے کا شکار ہو گئے تھے۔
کرد سینٹر کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شمالی اور مشرقی شام کی خود مختار انتظامیہ یا شامی ڈیموکریٹک فورسز کے رہنما کسی بھی فریق کی طرف سے مکمل طور پر مطمئن ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کی جیت کے بعد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر مظلوم عبدی نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ داعش سے لڑنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مشترکہ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے داعش کے خلاف واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے ایک حصے کے طور پر شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں 2019 میں واپس لینے کا ارادہ کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے مشیروں کے دباؤ پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور انہیں دوبارہ تعینات کر دیا تھا۔