اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ منصوبے سے باضابطہ طور پر اتفاق کیا ہے۔ اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے: "فوجی سیاسی کونسل (کابینہ) نےمنگل کی شام لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی امریکی تجویز کی منظوری دی ہے۔ کابینہ کے دس وزراء نے اس کی حمایت اور اس نے اس کی مخالفت کی‘۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگارکے مطابق یہ معاہدہ آج بدھ کو بیروت کے وقت کے مطابق صبح 10 بجے نافذ ہو جائے گا۔
لیکن دو سینیر لبنانی عہدیداروں نے رائیٹرز کو بتایا کہ امریکہ نے لبنانی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بدھ صبح کوگرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 4 بجےسے نافذ ہو جائے گا۔
فرانسیسی ایوان صدر نے تصدیق کی کہ جنگ بندی لبنان اور اسرائیل کے وقت کے مطابق صبح چار بجے سے نافذ ہو جائے گی۔
جب کہ اسرائیلی میڈیا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کا مکمل متن شائع کیا۔
13 نکاتی معاہدے میں درج ذیل شرائط رکھی گئی ہیں۔
• حزب اللہ اور لبنانی سرزمین میں دیگر تمام مسلح گروپ اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے۔
• اس کے بدلے میں اسرائیل لبنان میں زمینی، فضائی اور سمندری اہداف کے خلاف کوئی جارحانہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
• اسرائیل اور لبنان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
• یہ ذمہ داریاں اسرائیل یا لبنان کے اپنے دفاع کے حق کی نفی نہیں کرتی ہیں۔
ہتھیاروں کی نگرانی
• سرکاری لبنانی سکیورٹی فورسز اور فوج واحد مجاز مسلح ادارہ ہوگا جسے جنوبی لبنان میں ہتھیار اٹھانے یا فورسز چلانے کی اجازت ہوگی۔
• لبنان میں ہتھیاروں یا ہتھیاروں سے متعلق مواد کی فروخت، فراہمی یا پیداوار کی نگرانی لبنانی حکومت کرے گی۔
انفراسٹرکچر کو ختم کرنا
• ہتھیاروں اورگولہ بارود سے متعلق مواد کی تیاری میں شامل تمام غیر مجاز سہولیات کو ختم کر دیا جائے گا۔
• تمام فوجی انفراسٹرکچر اور سائٹس کو ختم کر دیا جائے گا اور تمام غیر مجاز ہتھیار جو ان وعدوں کی تعمیل نہیں کرتے ہیں، ضبط کر لیے جائیں گے۔
• اسرائیل اور لبنان دونوں کی منظوری سے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو ان وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں نگرانی اور مدد کرے گی۔
60 دن
• اسرائیل اور لبنان ان وعدوں کی کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی رپورٹ کمیٹی اور لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری افواج ’یونیفل‘ کو پیش کریں گے۔
• لبنان تمام سرحدوں، کراسنگ پوائنٹس اور جنوبی علاقے کی مخصوص لائن کے ساتھ سرکاری سکیورٹی فورسز اور فوجی دستوں کو تعینات کرے گا جیسا کہ تعیناتی کے منصوبے میں بیان کیا گیا ہے۔
• اسرائیل بتدریج بلیو لائن کے جنوب سے 60 دنوں کے عرصے میں پیچھے ہٹ جائے گا۔
• امریکہ تسلیم شدہ زمینی سرحدوں تک پہنچنے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو فروغ دے گا۔
شدید جھٹکے
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران اپنے حملوں میں شدت پیدا کی تھی۔ اس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر بیک وقت فضائی بمباری کا سلسلہ شروع کیا۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق، ایک اسرائیلی حملے میں بیروت کے قلب کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے۔ سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں "بیروت میں النویری اور البسطا کے درمیان کے علاقے میں" ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی لبنان کے قصبوں پر بھی بمباری
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے اگلے ہی دن حزب اللہ نے غزہ کی پٹی کے لیے ایک "سپورٹ" محاذ کھول دیا تھا۔