شام میں بین الاقوامی اتحاد (جس کی قیادت امریکا کر رہا ہے) کے جنگی طیاروں نے دیر الزور کے دیہی علاقوں میں القوریہ اور المیادین پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بات آج پیر کے روز شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ المرصد نے بتائی۔
دوسری جانب روسی فضائیہ کے طیاروں نے کل اتوار کے روز حلب یونیورسٹی کے اطراف بم باری کی۔ اس حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جن کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ عام شہری تھے یا جنگو تھے۔ المرصد کے مطابق اسی طرح کے حملے ادلب شہر میں بے گھر افراد کے کیمپوں پر بھی ہوئے۔
روسی جنگی طیاروں نے ادلب کے مشرق میں دیہی علاقے میں مسلح گروپوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ قافلہ درجنوں گاڑیوں اور سواریوں پر مشمل تھا جن میں گولہ بارود اور اسلحہ موجود تھا۔ یہ بات شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ثنا" نے بتائی۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز "تحریر الشام" تنظیم نے دیگر مسلح گروپوں کے ساتھ مل کر حلب صوبے میں اچانک حملہ کر دیا تھا۔ یہ گذشتہ کئی برسوں میں اپنی نوعیت کا شدید ترین حملہ شمار کیا جا رہا ہے۔ اس دوران میں مسلح گروپوں نے نمایاں پیش قدمی کو یقینی بنایا۔
گذشتہ روز حلب شہر مکمل طور پر مذکورہ گروپوں کے کنٹرول میں آ گیا ما سوا شمالی حصوں کے بعض علاقوں کے جو سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے قبضے میں ہیں۔ اس طرح 2011 میں مسلح تنازع شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ حلب شہر شام کی سرکاری فوج کے کنٹرول سے نکل گیا۔
واضح رہے کہ ایس ڈی ایف نے روسی فضائیہ کی معاونت سے 2016 کے اواخر میں حلب شہر پر دوبارہ سے پورا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس سے قبل 2012 کے موسم گرما سے شہر کے مشرقی حصوں میں شدید لڑائی اور بم باری کا سلسلہ جاری تھا۔
البتہ گذشتہ دو روز میں شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں نے حلب شہر کے زیادہ تر علاقوں اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے علاوہ ادلب اور حماہ صوبوں کے درجنوں شہروں اور دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس دوران میں شامی فوج کے یونٹ وہاں سے نکل گئے۔
المرصد نے اتوار کے روز بتایا کہ مسلح گروپوں کے حالیہ حملے میں مرنے والوں کی کم از کم تعداد 412 تک پہنچ گئی ہے جن میں 61 عام شہری شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 214 ہلاکتوں کا تعلق مسلح گروپوں اور 137 کا شام کی سرکاری فوج سے ہے۔