بشارالاسد کی معزولی کے بعد احمد الشرع شام پراپنا اثر کیسے ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں؟

عبوری وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ مارچ تک حکومت کریں گے۔ تب تک ھیۃ تحریر الشام اپنی انتظامیہ دمشق لے آئے گی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

شام میں ڈائریکٹوریٹ آف ملٹری آپریشنز جس کی سربراہی احمد الشرع کر رہے ہیں نے چند ہی دنوں میں پولیس کو تعینات کر کے اقتدار عبوری وزیراعظم کو سونپ دیا۔ انہوں نے غیر ملکی سفیروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جس سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا دمشق کے نئے حکمران اپنی مرضی کے سفیر تعینات کریں گےیا نہیں؟

ھیۃ تحریر الشام نے الشرع کی قیادت میں اور حزب اختلاف کے دھڑوں کے اتحاد کی حمایت سے گذشتہ اتوار کو بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ اب ھیۃ التحریر شام کے عہدیدار دمشق کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے رہےہیں۔

ادلب میں ھیۃ تحریر الشام حکومت کے سربراہ محمد البشیر کی پیر کے روز شام میں نئے عبوری وزیر اعظم کے طور پر تقرری اس بات کا اثبات ہے کہ یہ گروپ مسلح دھڑوں میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ بشارالاسد کے آہنی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے اس گروپ نے مسلسل 13 سال سے زیادہ عرصے سے جدو جہد جاری رکھ کر بشارالسد کا دھڑن تختہ کردیا۔

اگرچہ یہ گروپ 2016ء تک القاعدہ سے وابستہ تھا، لیکن اس نے دمشق تک اپنے مارچ کے دوران قبائلی رہ نماؤں، مقامی حکام اور عام شامیوں کو یہ یقین دلانے میں کامیابی حاصل کی کہ وہ اقلیتوں کے عقائد کا تحفظ کرے گا۔ یہی وجہ ہے اسے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی۔ اس پیغام نے مخالف دھڑے کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کو آسان بنانے میں مدد کی۔ الشرع جسے "ابو محمد الجولانی" کے نام سے جانا جاتا ہے اسد کی معزولی کے بعد سے اسی پیغام کو دہرا رہا ہے۔

نئی عبوری حکومت کیسے بنائی جائے؟

تاہم جس انداز میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے ادلب سے سینئر ایڈمنسٹریٹرز کو لا کر نئی عبوری حکومت کی تشکیل کی، اس سے کچھ لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ حزب اختلاف کے چار ذرائع اور تین سفارت کاروں نے رائیٹرز کو بتایا کہ وہ اس عمل کی اب تک کی جامعیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔

محمد البشیر نے کہا کہ وہ صرف مارچ تک اقتدار میں رہیں گے، لیکن ھیۃ تحریر الشام جسے اب بھی امریکہ، ترکیہ اور دیگر حکومتوں نے دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے نے ابھی تک عبوری عمل کی اہم تفصیلات ظاہر نہیں کیں، اس میں ایک نئے آئین پر غور کرنا بھی شامل ہے۔

سالویشن گورنمنٹ کے دیگر عہدیداروں کی طرح جو ادلب میں ھیۃ تحریر الشام سے وابستہ تھی اور انہیں سرکاری اداروں کے انتظام کے لیے دمشق منتقل کیا گیا تھا ایک 36 سالہ سول انجینئر محمد غزال نے کہا کہ اس نے ملازمین کوکام پر واپس آنےکی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اس وقت تباہی اور بربادی سے دوچار ہے۔

اگلے تین ماہ کے لیے ان کی ترجیحات بنیادی خدمات کو چلانا اور بیوروکریسی کو آسان بنانا ہے۔ تنخواہیں جن کا فی الخال تخمینہ اوسطاً 25 ڈالر ماہانہ ہے میں بھی سالویشن گورنمنٹ کی تنخواہوں کے مطابق اضافہ کیا جائے گا، جس کی کم از کم اجرت 100ڈالر فی مہینہ ہے۔

"شام ایک امیر ملک ہےلیکن اسد رجیم پیسہ چوری کیا"

ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت کی مالی اعانت کیسے جائے گئی، انہوں نے کہا کہ شام ایک بہت امیر ملک ہے لیکن حکومت پیسہ چوری کرنے کی عادی ہے"۔

ادلب سے آنے والے پولیس اہلکار بھی دمشق میں ٹریفک کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ھیۃ تحریر الشام کی طرف سے مسلح دھڑوں کو شہر سے نکل جانے کے حکم کے بعد معمول کا احساس بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک سیکورٹی اہلکار نےبتایا کہ بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ پہلے صرف ادلب میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اب انہیں دمشق میں بھی کام کرنا پڑ رہا ہے۔

اگرچہ ھیۃ تحریر الشام ان دھڑوں میں سب سے نمایاں ہے جنہوں نے اسد کے خلاف جنگ لڑی تھی، تاہم دیگر دھڑے اب بھی مسلح ہیں خاص طور پر اردن اور ترکیہ کی سرحد سے متصل علاقوں میں مسلح گروپ موجود ہیں۔

جنگ کے سالوں کے دوران اکثر اپوزیشن کے دھڑوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جس سے مسابقت اور دشمنی کی میراث باقی رہ گئی جسے۔ اسد رجیم کے بعد شام میں استحکام کے لیے خطرہ بننے والے بہت سے خطرات میں سے ایک خطرہ ان دھڑوں کا ہے۔

"ہم مارچ تک رہیں گے"

ھیۃ تحریر الشام کی مشاورت سے واقف اپوزیشن کے ایک ذریعے نے کہا کہ نگراں حکومت میں شام کے تمام فرقوں کو نمائندگی حاصل ہوگی۔ اس ذریعے نے وضاحت کی کہ اگلے تین ماہ کے دوران طے پانے والے معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ آیا شام میں نظام حکومت صدارتی ہونا چاہیے یا پارلیمانی۔

شام کا انقلاب 2011ء میں عرب بہار کی بغاوتوں کے ایک حصے کے طور پر پھوٹ پڑا تھا۔ عرب ممالک میں عوامی بغاوتیں مصر، تیونس، لیبیا اور یمن میں دیکھی گئیں جہاں پرتشدد لڑائیوں میں آمرانہ حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

اطالوی اخبار Corriere della Sera کے ساتھ انٹرویو میں شام کے عبوری وزیر اعظم البشیر نے کہا کہ"ہم صرف مارچ 2025 تک قیام کریں گے"۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترجیحات میں سکیورٹی اور ریاستی عملداری کو بحال کرنا، لاکھوں شامی پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی اور بنیادی خدمات فراہم کرنا شامل ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شام کا نیا آئین اسلامی ہوگا تو انھوں نے کہا کہ "ان تفصیلات" کو آئین کے مسودے کے عمل کے دوران واضح کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں