عالمی سلامتی کونسل نے ایک ایسے سیاسی کارروائی پر عمل درآمد پر زور دیا ہے جو تمام شامیوں کی امنگوں کے مطابق ہو۔ یہ موقف معزول صدر بشار الاسد کے فرار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بات منگل کے روز ایک بیان میں کہی گئی جو سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان کی جانب سے متفقہ طور پر جاری کیا گیا۔ ان ارکان میں بشار الاسد کا اتحادی روس بھی شامل ہے۔
بیان میں سلامتی کونسل نے کہا کہ "یہ سیاسی عمل تمام شامیوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے جو تمام لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور انھیں با اختیار بنائے کہ وہ پرُ امن، آزاد اور جمہوری طریقے سے اپنے مستقبل کا تعین کریں"۔
سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے بیان میں زور دیا کہ "وہ شام کی خود مختاری، آزادی، یکجہتی اور سرزمین کی سلامتی پر سختی سے کاربند ہیں"۔ بیان میں تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ان بنیادی اصولوں کا احترام کریں۔
سلامتی کونسل نے شام اور اس کے پڑوسی ممالک کو باور کرایا کہ وہ ایسے کسی بھی عمل یا مداخلت سے گریز کریں جس سے ایک دوسرے کا امن برباد ہو۔
یاد رہے کہ شام میں مسلح اپوزیشن گروپوں نے تحریر الشام تنظیم کے زیر قیادت 8 دسمبر کو دمشق میں داخل ہو کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس طرح نصف صدی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی الاسد خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔
مغربی طاقتیں شام میں نئے حکام کے ساتھ رابطہ رکھنے کی خواہاں ہیں۔ اس کا مقصد الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایسی انارکی سے بچنا ہے جو عراق اور لیبیا میں سامنے آئی تھی۔
فرانس نے 2012 سے مقفل اپنے سفارت خانے پر پرچم لہرا دیا ہے اور اپنا نمائندہ بھی دمشق بھیج دیا ہے۔ جرمنی ، مملکت متحدہ اور اقوام متحدہ نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے منگل کے روز خبردار کیا کہ شام میں "تنازع" ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ نئے حکام غیر ملکی حکومتوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ 13 برس سے زیادہ عرصے تک تباہ کن لڑائی کے بعد حالات پر سکون بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے گیر پیڈرسن نے سلامتی کونسل کے سامنے بتایا کہ شام کے شمال میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور ترکی کی حمایت یافتہ مسلح جماعتوں کے بیچ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
ترکی ، امریکی کی اتحادی فورس ایس ڈی ایف کو کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ شمار کرتا ہے جس کو انقرہ اور واشنگٹن ایک "دہشت گرد تنظیم" قرار دے چکے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز شام میں مقبوضہ گولان کے علاقے میں جبل الشیخ پر ایک سیکورٹی اجلاس کی صدارت کی۔ اس سے قبل اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفرزون پر قبضہ کر لیا تھا جو شام اور اسرائیل کی فورسز کو علاحدہ کرتا ہے۔
اسرائیل 8 دسمبر سے شام میں فوجی ٹھکانوں کو شدید بم باری کا نشانہ بنا رہا ہے۔
شام میں مسلح اپوزیشن گروپوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری مدداخلت کریں۔