البانیہ میں نوجوان کا قتل: ٹک ٹاک پر ایک سال کے لیے پابندی عائد

مجرم یا متأثرہ شخص کے ٹِک ٹاک اکاؤنٹس کا ثبوت نہیں ملا: ترجمان ٹک ٹاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تیرانا: البانیہ نے گذشتہ ماہ ایک طالبِ علم کے قتل کے بعد ہفتے کے روز مختصر ویڈیوز والی مقبولِ عام ایپ ٹک ٹاک پر ایک سال کی پابندی کا اعلان کیا۔ اس واقعے سے بچوں پر سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تھے۔

وزیرِ اعظم اِدی راما نے ملک کے طول و عرض سے والدین اور اساتذہ کے گروپوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ پابندی سکولوں کو محفوظ بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جو اگلے سال کے اوائل سے نافذ العمل ہو گی۔

راما نے کہا، "ایک سال کے لیے ہم اسے سب کے لیے مکمل طور پر بند کر دیں گے۔ البانیہ میں کوئی ٹک ٹاک نہیں ہو گا۔"

فرانس، جرمنی اور بیلجیئم سمیت کئی یورپی ممالک نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ آسٹریلیا نے نومبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی منظوری دی جو ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنانے والے دنیا کے سخت ترین ضوابط میں سے ایک ہے۔

راما نے سوشل میڈیا اور بالخصوص ٹک ٹاک پر سکول کے اندر اور باہر نوجوانوں میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔

البانیہ میں نومبر میں سکول کے ایک 14 سالہ طالبِ علم کو اس کے ساتھی نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد ادی راما کی حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

مقامی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر دونوں لڑکوں کے درمیان بحث کے بعد پیش آیا۔ ٹک ٹاک پر نابالغ افراد کی طرف سے قتل کی حمایت کرنے والے ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔

راما نے کہا، "آج کا مسئلہ ہمارے بچے نہیں بلکہ ہم ہیں، آج کا مسئلہ ہمارا معاشرہ ہے، آج کا مسئلہ ٹک ٹاک اور دیگر تمام سوشل میڈیا ہے جو ہمارے بچوں کو یرغمال بنا رہے ہیں۔"

ٹک ٹاک نے کہا کہ اس نے البانیہ کی حکومت سے "فوری وضاحت" کا مطالبہ کیا ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا، "ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مجرم یا متأثرہ شخص کے ٹِک ٹاک اکاؤنٹس تھے اور متعدد رپورٹس نے حقیقت میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کی وجہ بننے والی ویڈیوز کسی اور پلیٹ فارم پر پوسٹ کی جا رہی تھیں، نہ کہ ٹک ٹاک پر۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں