ماحولیاتی خطرے کی علامت ’انڈین کوا‘ جسے کینیا کی حکومت نمٹنے میں ناکام ہو چکی

اس کوے کو مشرقی افریقہ میں 1890ء کی دہائی کے آس پاس متعارف کرایا گیا تھا تاکہ زنجبار جزیرے میں فضلے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بھارتی کوا جسے ہندوستان سے کینیا لایا گیا تھا اب ملک کے لیے ماحولیاتی خطرے کی علامت قرار دیا جانے لگا ہے۔ اسے کینیا لانے کا مقصد فضلے سے نمٹنے مدد کرنا تھا، مگر یہ پرندہ رہائشیوں اور حکام کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ یہ زراعت اور سیاحت کے شعبوں پر منفی اثر ڈالتا ہے، بیماریاں پھیلاتا ہے، اپنی آوازوں اور گھونسلوں سے مکینوں کو پریشان کرتا ہے۔ کینیا میں اس کی افزائش نسل تیزی سے ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں سات لاکھ کوے موجود ہیں۔

کینیا میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت پرندوں کی درجہ بندی کے بعد اس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے منصوبوں کے باوجود کووں کی بڑھتی تعداد اور خطرے کو نہیں روکا جا سکا۔ ان کووں کی بہتات مقامی ماحولیاتی نظام، کسانوں کی روزی روٹی اور رہائشیوں کے سکون کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔

پالتو کوا پریشان کن اور نقصان دہ

بھارتی کوّے کو کینیا میں سب سے زیادہ تباہ کن اور حملہ آور پرندوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ اکثر گوشت اور مقامی نسلوں کے پرندوں کے بچوں کو کھاتے ہیں، خاص طور پر نہ صرف پرندے بلکہ ممالیہ اور رینگنے والے جانور بھی ان کی خوراک بننے لگے ہیں۔ اس لیے ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ان کا اثر تباہ کن ہے۔ ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کووں نے خطے میں چھوٹے مقامی پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے نقصان دہ کیڑوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے جو چھوٹے پرندے کھاتے ہیں۔

کوے زرعی فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر مرغیوں کو۔ کیونکہ وہ مرغیوں کے چوزوں اور انڈوں کو کھا جاتے ہیں۔ کسانوں کی زہر آلود مہم کے ذریعے کووں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے چھٹکارا پانے کی کوششوں کے دوران انہیں دوسرے پڑوسیوں سے آنے والے کووں کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

شہری علاقوں میں شہری ہندوستانی کووں کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں وہ پُرسکون علاقوں سے اپنے مضبوط وابستگی کی وجہ سے "گھریلو کوّے" کہنے لگے ہیں، کیونکہ وہ کئی دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ جنگلی حیات پر ان کے منفی اثرات ، پولٹری فارمز کو نقصان پہنچانے سمیت کئی ماحولیاتی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔

کووں کی آوازوں سے ہونے والی تکلیف کے علاوہ وہ گھروں اور بالکونیوں کی دیواروں کو مسخ کرتے ہیں۔ سیاحوں کو اپنے بڑے ریوڑ سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ ان کی صحت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

انڈین کوا

افزائش نسل کو کنٹرول کرنے کی کوشش

کینیا میں حیاتیاتی تنوع کو کوّوں کے خطرے کو کم کرنے کے مقصد سے خاص طور پر مقامی پرندوں کی مخصوص اقسام کے زوال کے بعد حکام نے محفوظ زہروں کی اقسام کا استعمال کرتے ہوئے کووں پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ حکام ایسے پروندوں کو فروغ دے رہے ہیں جو ماحول پر کوئی اثر نہیں چھوڑتے۔

ماحولیاتی ماہرین اور کووں کے جھنڈ سے متاثر ہونے والے شعبوں کے نمائندوں کے ساتھ کئی مہینوں کی مشاورت کے بعد حکام نے کووں کی سب سے بڑی تعداد کو خوراک کی جگہوں پر اکٹھا کر کے زہر دینے کی مہم شروع کی۔ ان کے گھونسلے بنانے والی جگہوں کے قریب "اسٹارلیسیڈ" نامی مادہ چھڑکا۔ یہ طریقہ دوسرے پرندوں یا دوسرے جانوروں پر اثر انداز ہوئے بغیر کووں کی تعداد کو کم کرنے میں موثر ثابت ہوا ہے۔

اس طریقے سے کووں کی تعداد میں کمی کے باوجود محدود فنڈنگ اور وسائل کی قلت اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھرپور وسائل کی قلت کی وجہ سے ہندوستانی کوا کینیا میں ماحولیاتی نظام، معاش اور معیشت کو درہم برہم کرتا رہے گا۔

برطانیہ اسے فضلےنمٹنے کے لیے لایا

ہندوستانی کوا جسے "کانگورو" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ہندوستان اور ایشیا کے دیگر حصوں میں بہ کثرت پایا جاتا ہے۔ اسے تجارتی بحری جہازوں پر دوسرے علاقوں میں پھیلایا گیا۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستانی کوے کو جان بوجھ کر مشرقی افریقہ میں 1890ء کی دہائی کے آس پاس متعارف کرایا گیا تھا تاکہ زنجبار جزیرہ نما میں فضلہ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ یہ اقدام برطانیہ نے کیا تھا مگر کینیا کے لیے درد سر بن چکا ہے۔

یہ پرندے زنجبار جزیرے سے مین لینڈ اور ساحل کے ساتھ ساتھ کینیا تک پھیل گئے جہاں ان کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں