کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پارٹی کی سربراہی سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جسٹن ٹروڈو نے کینڈا کے وزیراعظم اور اپنی جماعت کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

اوٹاوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے لبرل پارٹی کے سربراہ کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نئے رہنما کے انتخاب تک ٹروڈو نگراں کی حیثیت سے وزیر اعظم رہیں گے۔ انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان پارٹی میں جاری اختلافات کی وجہ سے کیا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی حکمران جماعت لبرل پارٹی نئے رہنما کا انتخاب کرے گی وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

واضح رہے کہ جسٹن ٹروڈو سال 2015 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے جس کے بعد 2019 اور 2021 میں بھی وہ مسلسل تین بار انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔

دسمبر میں جسٹن ٹروڈو نے وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ کی تنزلی کی کوشش کی تھی جس پر فری لینڈ نے استعفیٰ دیتے ہوئے ایک خط میں ٹروڈو پر "سیاسی چالوں" کا الزام لگایا تھا۔

انکے مخالفین کا کہنا ہے کہ ٹروڈو کی غلط امیگریشن پالیسی لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کی کینیڈا آمد کا باعث بنی جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار ہاؤسنگ مارکیٹ پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی لبرل پارٹی بھی اپنے سربراہ سے محروم ہو جائے گی جبکہ دوسری جانب رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو برتری حاصل ہو گی۔

جسٹن ٹروڈو کے اعلان کے بعد جلد انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے تاکہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کینیڈا میں نئی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہوں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں