داعش نے افغانستان میں چینی شہری کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کر لی
چین کی جانب سے مذمت، داعش کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
داعش نے بدھ کو اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں افغانستان کے شمالی صوبہ تخار میں ایک چینی شہری کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
صوبے میں افغان پولیس نے بدھ کو کہا تھا کہ ایک چینی شہری کو قتل کر دیا گیا تھا اور اس کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئیں تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔
داعش نے کہا کہ اس نے چینی شہری کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا اور اس کی گاڑی کو نقصان پہنچا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اپنے شہری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے داعش کے خلاف سخت اقدامات پر زور دیا۔
ترجمان ماؤ ننگ نے کہا، "ہمیں شدید صدمہ پہنچا ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"
ماؤ نے باقاعدہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ چین نے افغانستان سے سنجیدہ تحقیقات کرنے اور مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا تقاضہ کیا ہے۔
چین پہلا ملک تھا جس نے طالبان کے دور میں افغانستان میں سفیر مقرر کیا اور کہا ہے کہ وہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالا اور جنگ زدہ ملک میں سلامتی بحال کرنے کا عزم کیا۔
حملے جاری ہیں جن میں 2022 میں چینی سرمایہ کاروں میں مقبول کابل ہوٹل پر حملہ بھی شامل ہے۔ داعش نے ان میں سے کئی ایک کی ذمہ داری قبول کی ہے۔