ٹرمپ انتظامیہ: سعودی عرب اور اردن میں تعینات سفیروں کے استعفے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کی نئی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے جوبائیڈن انتظامیہ کے دور سے سعودی عرب اور اردن میں تعینات امریکی سفیروں کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ یہ بات ' العربیہ'کو متعلقہ ذرائع سے معلوم ہوئی ہے۔

واضح رہے امریکہ میں یہ عمومی پریکٹس ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے بر سر اقتدار آنے پر پہلے سے تعینات سفیر اپنے استعفے نئی انتظامیہ کو پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد نئی انتظامیہ بالعموم اپنی مرضی کے نئے سفیر مقرر کر دیتی ہے۔ تاہم انتظامیہ چاہے تو ان استعفے پیش کرنے والے سفیروں سے بعض کو کام جاری رکھنے کے لیے کہتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ جس نے اپنی ذمہ داریاں 20 جنوری سے سنبھالی ہیں،مذکورہ بالا دو ملکوں میں اپنے سفیروں کے استعفے فوری قبول کر لیے ہیں۔

ان میں مائیکل رتنی کو جوبائیدن انتظامیہ نے اپریل 2023 میں سعودی عرب میں بطور سفیر تعینات کیا تھا۔ رتنی اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ میں اس سے پہلے قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ اس سے قبل یاسرائیل اور قطر میں بھی سفارتی اہلکار کے طور پر کام کر چکے تھے۔ وہ شام کے لیے امریکی نمائندہ بھی رہ چکے تھے۔

جبکہ یائل لیمپرٹ نے اگست 2023 ممیں بطور سفیر اردن میں ذمہ داری سنبھالی تھی۔ بھی لیمپرٹ ایک کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور مئی 2023 تک قریبی مشرقی امور کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ رہیں۔ اپنے کیریئر کا زیادہ تر وقت انہوں نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں خدمات انجام دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں