حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرونز کی غزہ پر بمباری

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی نصیرات کیمپ میں ایک ہدف پر بمباری،تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی میڈیا نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی ڈرون نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں ایک ہدف پر بمباری کی۔

فلسطینی شہاب نیوز ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی ڈرون نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ کے شمال مغرب میں رشید اسٹریٹ پر پل کے علاقے کے قریب ایک ہدف کو نشانہ بنایا۔ تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

شہاب نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے فلاڈیلفیا محور سے مصر کی سرحد پر واقع رفح شہر کے جنوبی علاقوں میں فلسطینیوں کی طرف انتباہی شیلنگ کی۔

اسرائیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے پیر کو حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وزیراعظم کو منگل کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملنے کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ یاھو اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال، حماس کے زیر حراست افراد اور خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ محاذ آرائی پر بات چیت کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی تباہ کن جنگ کے بعد 19 جنوری کو عمل میں آیا تھا۔

تین مرحلوں پر مشتمل اس معاہدے میں غزہ کی پٹی کے آبادی والے علاقوں سے لڑائی روکنے اور اسرائیل کے انخلاء کی شرط رکھی گئی تھی۔

پہلا مرحلہ 6 ہفتے تک جاری رہے گا اور اس میں تقریباً 1,900 فلسطینیوں کے بدلے غزہ سے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

اس معاہدے میں یہ بھی شرط ہے کہ اس کے نفاذ کے 16 دن بعد دوسرے مرحلے کے طریقہ کار پر بات چیت ہوگی۔ اس کا مقصد آخری اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور جنگ کو ختم کرنا ہے۔

تیسرے اورآخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو اور پٹی کے لیے گورننس ماڈل پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں