عالمی رہنما ٹرمپ کا فیصلہ واپس لینے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں: ڈبلیو ایچ او

امریکہ عالمی ادارہ صحت میں سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک، 2024 میں بجٹ میں اس کا حصہ 18 فیصد تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ وہ واشنگٹن پر دباؤ ڈالیں کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ کی تنظیم سے علیحدگی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ گزشتہ ہفتے سفارت کاروں کے ساتھ ایک بند اجلاس میں انہوں نے زور دیا ک عالمی بیماریوں کے پھیلنے کے متعلق امریکہ اہم معلومات کھو دے گا۔

تاہم ممالک نے گزشتہ بدھ کو ایک اہم بجٹ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے سب سے بڑے عطیہ دہندہ کے ساتھ کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس کو حاصل ہونے والی میٹنگ کی اندرونی دستاویزات سے واضح ہوئی ہیں۔

مالی سال 2024-2025 کے لیے امریکہ عالمی ادارہ صحت کو بڑے فرق سے سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہے کیونکہ اس کا تعاون تقریباً 988 ملین ڈالر رہا۔ تنظیم کے 6.9 بلین ڈالر کے بجٹ میں امریکہ کا حصہ تقریباً 14 فیصد رہا۔ اجلاس میں پیش کی گئی بجٹ دستاویز سے ظاہر ہوا کہ ڈبلیو ایچ او کا ہنگامی صحت پروگرام امریکی فنڈز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے فنانس ڈائریکٹر جارج کیریاکو نے بدھ کو امریکی اخراج کے اثرات کے بارے میں ایک الگ خصوصی میٹنگ میں کہا کہ اگر تنظیم موجودہ شرح پر خرچ کرتی رہتی ہے تو اگر ہمارے نقد بہاؤ کی بات کی جائے تو یہ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں بہت مشکل حالت میں ہو جائے گا۔ جارج کیریاکو نے مزید کہا کہ امریکہ نے ابھی تک عالمی ادارہ صحت کو سال 2024 کے لیے اپنا حصہ ادا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے ادارے کے بجٹ میں خسارہ ہے۔

گزشتہ ہفتے یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے حکام کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کام کرنا بند کر دیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے بجٹ اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ تنظیم اب بھی امریکی سائنسدانوں کو کچھ ڈیٹا فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا "ہم انہیں معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے" انہوں نے رکن ممالک سے امریکی حکام سے رابطہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا "ہم شکر گزار ہوں گے اگر آپ ان پر دوبارہ غور کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے اور بات چیت کرتے رہیں گے" ۔

ٹیڈروس نے مزید کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جنوری 2020 میں دنیا کو کرونا وائرس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا اور اس کے بعد سے درجنوں اصلاحات نافذ کی ہیں جن میں ڈونر بیس کو بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ ٹیڈروس نے میٹنگ میں شرکت کرنے والوں کو بتایا کہ امریکہ کو تنظیم میں واپس لانا بہت اہم ہوگا۔ اس تناظر میں مجھے یقین ہے کہ آپ سب اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سب سے بڑا شیئر ہولڈر

امریکہ عالمی ادارہ صحت میں سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے۔ 2024 میں بجٹ میں اس کا حصہ 18 فیصد تھا۔ اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فنڈنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فرق کو پورا کرنے کے لیے ہیلتھ پوسٹوں اور پروگراموں میں کٹوتی کی جائے گی۔ امریکہ خود اس وقت ایگزیکٹو بورڈ میں نمائندگی کر رہا ہے جس میں 34 اراکین شامل ہیں اور سالانہ جنرل میٹنگز کے درمیان عالمی ادارہ صحت میں فیصلہ سازی کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

امریکی انخلا 22 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہونا ہے تاہم واشنگٹن میں نئی انتظامیہ نے اپنے حکام کو عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعاون فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو امید ہے کہ دوسرے ممالک اپنی شراکت بڑھانے پر غور کریں گے۔

واضح رہے عالمی ادارہ صحت کے تمام 194 رکن ممالک کی لازمی شراکت کا انحصار ملک کی معاشی طاقت پر ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی فنڈنگ روک دی تھی تو جرمنی 2020-2021 کے بجٹ کی مدت میں سب سے بڑا تعاون کرنے والا بن گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں