غزہ کو پراپرٹی ڈیل کی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے : ماکروں کی ٹرمپ پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے غزہ کی پٹی سے متعلق اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ منصوبے میں غزہ کی پٹی سے اس کی آبادی کی جبری ہجرت اور ان کو واپسی کا حق نہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

امریکی نیوز چینل CNN کو دیے گئے انٹرویو میں ماکروں نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کی کارروائی کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ اس کی آبادی کو عدم احترام کا نشانہ بنا کر بے دخل کر دیا جائے۔

ماکروں نے "فلسطینیوں اور ان کے عرب ہماسیوں کے احترام" کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے غزہ کے لوگوں کو اجتماعی طور پر ان کے وطن سے بے گھر کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

عمانوئل ماکروں کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورت حال کو ایک پراپرٹی ڈیل سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس کے صدر کے مطابق غزہ کے لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی سرزمین چھوڑ کر چلے جائیں۔

ماکروں نے کہا "آپ بیس لاکھ افراد کو یہ نہیں کہہ سکتے : اچھا، کیا آپ جانتے ہیں ؟ آپ کو منتقل کر دیا جائے گا"۔

ماکروں نے CNN کو انٹرویو میں بتایا کہ "میں نے (اسرائیلی) وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ہمیشہ اپنے اس اختلاف کو دہرایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کا (فوجی) آپریشن جس میں کبھی شہریوں کو نشانہ بنایا جائے، یہ درست جواب ہو سکتا ہے"۔

ماکروں نے اپنی گفتگو میں فلسطینیوں کی اپنے وطن میں بقا کی خواہش اور اردن اور مصر کا غزہ کے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کو قبول نہ کرنے پر بھی روشنی ڈالی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں