مصر کے ڈیم پر اسرائیلی حملے کا فرضی منظر نامہ ، شدید ردود عمل کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی میڈیا نے مصر کے علاقے اسوان میں العالی ڈیم پر ممکنہ حملے کے منظر نامے پر بات کی ہے۔

عسکری امور سے متعلق اسرائیلی ویب سائٹ "نزيف" نے ایک فرضی تصویر پیش کی ہے کہ العالی ڈیم کس طرح مصنوعی ذہانت کے ساتھ یا اس کے بغیر میزائل حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔ اس کا مقصد ڈیم کی جزوی ٹوٹ پھوٹ یا مکمل طور پر ٹوٹ جانے کو ممکن بنانا ہے جس کے نتیجے میں پانی کی بھاری مقدار دریائے نیل کے نیچے کی جانب بہہ جائے گا۔ اس کے سبب اسوان سے قاہرہ تک بڑی تباہی پھیل سکتی ہے۔

دوسری جانب عسکری اور تزویراتی امور کے مصر ماہر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسامہ محمود نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ویب سائٹ "نزيف" کی جانب سے العالی ڈیم کی جزوی یا کلی تباہی سے متعلق جو ممکنہ فرضی تصویر پیش کی گئی ہے ، اس طرح کے غیر ذمے دارانہ فضول بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

مصری ماہر نے مزید کہا کہ مذکورہ اسرائیلی ویب سائٹ غیر معروف ہے میڈیا کی دنیا میں اس کی بات میں کوئی وزن نہیں۔
میجر جنرل اسامہ نے یاد دلایا کہ جنوری 2001 میں ایک اسرائیلی سیاسی جماعت کے سربراہ اویگڈور لیبرمین نے رعونت کے ساتھ یہ کہا تھا کہ اسرائیل نے اگر ارادہ کیا تو وہ مصر میں العالی ڈیم کو حملے کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس بیان کے آتے ہی اسرائیلی سرکاری میڈیا (اخبارات اور چینلوں) نے لیبرمین کو شدید تنقید کا نشانہ باتے ہوئے انھیں سیاسی طور پر نا پختہ کار قرار دیا تھا۔

اسرائیلی ویب سائٹ "نزیف" نے فرضی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد ابتدائی تین گھنٹے فیصلہ کن ہوں گے جب پانی کی بڑی لہریں اسوان اور الاقصر کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر دیں گی۔ یہاں فوجی اور صنعتی تنصیبات پانی میں ڈوب جائیں گی اور دیہی علاقوں میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اسی طرح اگلے تین گھنٹوں میں سیلابی پانی شمال کی جانب پہنچ کر دار الحکومت قاہرہ میں داخلہ ہو جائے گا جس کی آبادی 2 کروڑ نفوس سے زیادہ پر مشتمل ہے۔ اس دوران میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو جائے گی اور نقل و حمل اور مواصلات کا نظام بھی معطل ہو جائے گا۔ اس موقع پر مصری فوج ڈوبے ہوئے علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کرے گی۔

اسرائیلی میڈیا کی جانب سے "فرضی" قرار دیے جانے والے منظر نامے کی کامیابی کی صورت میں قاہر میں صنعتی علاقے مکمل طور پر بند ہو جائیں گے۔ انتہائی افراتفری کی حالت میں فوج شہر کے وسطی حصے پر کنٹرول کھو دے گی۔ بے گھر افراد پناہ کے لیے بالائی صحرائی علاقوں کا رخ کریں گے۔

اسرائیلی ویب سائٹ کے اندازے کے مطابق اس سانحے میں مرنے والے افراد کی تعداد 17 لاکھ سے 1 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ اس رپورٹ کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک "فرضی خیال" قرار دیا گیا ہے تاہم اس کے گردش میں آنے پر غصے سے بھرپور ردودعمل سامنے آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں