بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف عالمی اور دوطرفہ مسائل پر بات چیت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں انہیں جدید ترین جنگی طیارے فروخت کرنے کی بھی پیشکش کی اور دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا۔ ملاقات میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بھارت کو تیل اور گیس فراہم کرے گا، کیونکہ امریکہ کے پاس یہ وسائل کافی مقدار میں موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی اور گزشتہ دور صدارت میں مودی کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا: ’ہم اس سال سے انڈیا کو اربوں ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کی فروخت میں اضافہ کریں گے۔ ہم انڈیا کو بالآخر ایف 35 سٹیلتھ فائٹر فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مودی اور انڈیا کے ساتھ ’خاص تعلق‘ محسوس ہوتا ہے، اور غیر معمولی طور پر عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی ان سے زیادہ ’سخت مذاکرات کار‘ ہیں۔ مودی، جو ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے دنیا کے چوتھے سربراہ ہیں، نے امریکی صدر کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ وہ ٹرمپ کے نعرے ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائی‘ کا اپنا انداز اپنا رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات کے دوران مودی پرچیاں دیکھ کر بیان پڑھتے نظر آئے، جس پر امریکی میڈیا نے توجہ دی۔ مودی نے اس موقع پر کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کے کام کو سراہا اور کہا کہ مودی بھارت میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ ایک بڑے رہنما ہیں۔ مودی نے اس موقع پر ٹرمپ سے ایک اہم بات سیکھنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ قومی مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہیں۔
سکھوں کا احتجاجی مظاہرہ
بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے سامنے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔
مظاہرے میں سکھ کمیونٹی کے ارکان بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور "خالصتان" کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ بھارت کی دیگر اقلیتی کمیونٹیز بھی مودی کے خلاف نعرے بازی میں شامل ہوئیں۔
مظاہرے کے دوران چند بھارتی شہری مودی کے حق میں بھی نعرے لگاتے نظر آئے، جس سے دونوں طرف کے مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔
پولیس نے حالات کو کنٹرول کرتے ہوئے مظاہرین کو الگ الگ کر دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کر کے ان کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، اور ان کا مطالبہ تھا کہ صدر ٹرمپ کو اس صورتحال کی شدید مذمت کرنی چاہیے۔ اس دوران خالصتان کے پرچم بھی لہرائے گئے۔
-
نریندر مودی کو بھی صدر ٹرمپ سے اگلے ہفتے ملنے کی دعوت مل گئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اگلے ہفتے ملاقات کے ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کے اکاونٹ کی معطلی کے بعد نریندر مودی'ٹویٹر' پر چھا گئے
چند روز قبل امریکی کانگریس کی عمارت پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کے بلوے کے بعد مائیکرو ...
بين الاقوامى -
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت آمد، مودی کی جانب سے احمد آباد میں استقبال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا کے ہمراہ بھارت کے اپنے پہلے سرکاری دورے ...
بين الاقوامى