فلسطینی تنظیم 'فتح موومنٹ' کے ایک ذریعے نے باور کرایا ہے کہ تنظیم نے غزہ کی حکم رانی کے حوالے سے ایک ویژن پیش کیا ہے۔
العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فتح موومنٹ کے ذریعے نے حماس تنظیم پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے مفاد پر نظر کرے۔ موومنٹ کے مطابق حماس کے ساتھ دروازے بند نہیں ہیں۔
اس سے قبل اتوار کے روز حماس تنظیم کے ایک رہنما حازم قاسم نے العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں کہا تھا کہ "اگر ہمارے عوام کے مفاد میں نہ ہوا تو ہم غزہ کی حکمرانی نہیں لیں گے"۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس تنظیم فائر بندی معاہدے کے تینوں مرحلوں کی پاسداری کرے گی۔ حازم نے غزہ معاہدے کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا جب کہ مذاکرات میں امریکی صدر کی ٹیم خود شریک رہی۔
حماس رہنما نے مزید کہا کہ "اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع ہو جانا چاہیے تھے، وساطت کاروں پر لازم ہے کہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں"۔
اسرائیل اور حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد جاری ہے۔ فریقین کے بیچ ہفتے کے روز قیدیوں کے تبادلے کی چھٹی باری انجام دی گئی۔
اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کی پٹی میں امدادی عمل اور تعمیر نو کی نگرانی کے لیے ایک عارضی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے مصر کی جانب سے کثیر رابطے جاری ہیں۔ یہ بات مصری نیوز چینل "القاهرة" نے بتائی۔
مصر کی جانب سے یہ سرگرمی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ بارہا غزہ کی پٹی کی آبادی کی جبری ہجرت کا عندیہ دے چکے ہیں تا کہ وہاں تعمیر نو اور سرمایہ کاری ہو سکے۔
توقع ہے کہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہو جائیں گے۔ اس مرحلے میں بقیہ اسرائیلی قیدیوں اور اس کے مقابل سیکڑوں فلسطینی اسیروں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ غزہ کی تعمیر نو کے ساتھ مختص ہے۔ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے اور اقوام متحدہ نے اس کی لاگت کا اندازہ 53 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا ہے۔