صدر کون ہے ٹرمپ یا مسک؟ واشنگٹن پوسٹ نے اشتہاری مہم مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

واشنگٹن پوسٹ نے ایک اشتہاری مہم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ایلون مسک ملک چلا رہے ہیں۔

کامن کاز جو خود کو "امریکی جمہوریت کی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے وقف ایک غیر جانبدار نچلی سطح کی تنظیم" کے طور پر بیان کرتا ہے، نے ایک اشتہار چلانے کا منصوبہ بنایا تھا جس میں پوچھا گیا تھا، "اس ملک کو کون چلاتا ہے: ٹرمپ یا مسک؟"

تنظیم نے کہا کہ یہ اشتہار اس ہفتے اخبار کے منگل کے کچھ ایڈیشن کے آخر میں شائع ہونا تھا، لیکن جمعہ کو معلوم ہوا کہ اشتہار کو توقع کے مطابق شائع نہیں کیا جائے گا۔

تنظیم نے اپنے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اشتہار کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں ایک دیو ہیکل مسک کو وائٹ ہاؤس کا ایک چھوٹا ماڈل پکڑے دکھایا گیا ہے۔

تنظیم نے کہا کہ"جیف بیزوس کی واشنگٹن پوسٹ نہیں چاہتی تھی کہ آپ ہمارے اشتہار کو دیکھیں کہ وائٹ ہاؤس کا انچارج کون ہے۔ ہم اقتدار کا جوابدہ ہونا بند نہیں کریں گے"۔

مسک اور ٹرمپ کا مقرر کردہ محکمہ برائے حکومتی کارکردگی ڈیموکریٹس کا ہدف رہا ہے۔

کامن کاز نے ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ "کسی نے بھی ایلون مسک کو ووٹ نہیں دیا"۔ اس میں URL: FireMusk.org شامل ہے۔

"پہلے دن سے ایلون مسک نے افراتفری اور الجھن پیدا کر دی ۔ ہماری روزی روٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، وہ اپنے سوا کسی کو جوابدہ نہیں ہے"۔

تنظیم نے زور دیا کہ "آئین ایک وقت میں صرف ایک صدر کی اجازت دیتا ہے۔امریکی ووٹر سے اپیل کی ہے کہ"اپنے سینیٹرز کو کال کریں اور انہیں بتائیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلون مسک کو برطرف کرنے کا وقت آگیا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں