اسرائیل میں تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے ، فوج کو ایک لاش کی شناخت پر شکوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حماس تنظیم کی جانب سے چار اسرائیلیوں کی لاشیں واپس کیے جانے کے بعد جمعرات کے روز تل ابیب میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے۔ ان افراد کو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران میں غزہ کی پٹی میں قیدی بنا لیا گیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بقیہ تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اس وقت غزہ کی پٹی میں 69 قیدی یرغمال ہیں جن میں 30 سے زیادہ لاشیں شامل ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج نے آج جمعے کی صبح اعلان میں بتایا کہ جمعرات کے روز حماس کی جانب سے حوالے کی جانے والی چار لاشوں میں سے ایک لاش نا معلوم شخص کی ہے اور وہ خاتون قیدی شیری بیباس نہیں ہے۔ فوج نے تصدیق کی ہے کہ دیگر دو لاشیں اس خاتون کے دو چھوٹے بچوں ارییل اور کفیر کی ہیں۔

فوج کے مطابق پوسٹ مارٹم کے نتیجے سے ظاہر ہوا ہے کہ مذکورہ لاش نہ تو شیری بیباس کی ہے اور نہ کسی اور مغوی شخص سے مطابقت رکھتی ہے، یہ نا معلوم لاش ہے۔ اسرائیلی فوج نے حماس کے ساتھ فائر بندی معاہدے کی اس "صریح خلاف ورزی" کی شدید مذمت کی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک شخص کی شناخت کی تصدیق کی تھی جس کی لاش حماس کی جانب سے جمعرات کی صبح حوالے کی گئی۔

اسرائیلی ذرائع نے باور کرایا ہے کہ ہفتے کے روز قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی مقررہ پلان کے مطابق عمل میں آئے گی۔ توقع ہے کہ حماس 6 زندہ فوجیوں کو آزاد کرے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 4 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کے تابوت کی نمائش پر اسرائیل کے غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ عمل جمعرات کے روز ان تابوتوں کو بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر کے حوالے کیے جانے سے قبل دیکھنے میں آیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوران میں قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کیں۔

جمعرات کی صبح غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں نقاب پوش اور مسلح جنگجوؤں نے ایک اسٹیج پر چار سیاہ تابوتوں کو پیش کیا، جن پر اسرائیلی قیدیوں کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ اسٹیج کے اوپر ایک بینر لگا ہوا تھا جس میں نیتن یاہو کو "خون پینے والے" کی شکل میں دکھایا گیا تھا۔

غزہ کی پٹی میں 15 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد 19 جنوری کو فائر بندی معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا۔ یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ فائر بندی کا معاہدہ مصر، قطر اور امریکا کی وساطت سے طے پایا۔

فائر بندی کے بعد سے اب تک غزہ سے 19 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے 1100 سے زیادہ فلسطینیوں کو آزاد کیا گیا۔

فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جو یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا، حماس تنظیم کو 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا ہے جن میں 8 لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل اسرائیل اپنی جیلوں سے 1900 فلسطینیوں کو آزاد کرے گا۔

حماس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے دوران میں "ایک باری" میں ہی بقیہ تمام قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز دو مارچ سے ہونا ہے۔

معاہدے کے اس دوسرے مرحلے میں توقع ہے کہ غزہ میں جنگ مکممل طور پر اختتام پذیر ہو جائے گی۔ تاہم اس مرحلے کے لیے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان پہلے مرحلے میں خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو سے متعلق ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں