نیوم سٹی : اوگزاگون بندرگاہوں کے قیام کے لیے پیش رفت تیز تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

'العربیہ' جو پچھلے کئی دنوں سے'نیوم سٹی ' اور اس سے متعلق تعمیراتی امور کے مطابق خصوصی رپورٹ شائع کر رہا ہے تاکہ اپنے قارئین کو نیوم سٹی میں جاری پیش رفت سے آگاہ کرتا رہے ۔ اپنی تازہ خصوصی اشاعت میں 'العربیہ' نے نیوم سٹی کی بندرگاہوں سے متعلق پیش رفت کو اپنی خصوصی رپورٹ کا موضوع بنایا ہے ۔

'دی لائن' سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر 6000 کارکن مسلسل اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں تاکہ بحیرہ احمر کے ساحل سے سعودی عرب کے اس جدید ترین شہر کو مربوط کیا جا سکے ۔ جو کہ دنیا کی جدید ترین اور پائیدار ترین بندرگاہ ہوگی جسے 'پورٹ آف نیوم' کا نام دیا گیا ہے ۔

یہ منصوبہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عظیم ویژن میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور سعودی عرب کا 'پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ' اس کی ملکیت رکھتا ہے۔ آج کی اس رپورٹ میں ساحل پر نظر آنے والی پیش رفت قارئین کے سامنے لائی جارہی ہے جو سعودی عرب کے معیشت اور ترقی کے بلند عزائم کو ظاہر کرتی ہے ۔

یہ 'نیوم بندرگاہ' پورے نیوم شہر کے لیے کارآمد رہے گی۔ یہ بات پراجیکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سیان کیلی نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس کے نتیجے میں سعودی عرب کا دنیا بھر سے رابطہ کاری میں آسانی اور بہتری پیدا ہوگی ۔ اوگزاگون میں دوسری بڑی بندرگاہ بھی عالمی رابطوں کے سلسلے میں بہت اہمیت کی حامل ہے جو نیوم شہر سے تقریباً 850 کلومیٹر دور ہے۔ یہ دونوں بندرگاہیں مملکت کی معاشی پائیداری میں اہم کردار کی حامل رہیں گی ۔ اوگزاگون بندرگاہ سے درآمد اور برآمد کے مقاصد پورے ہوں گے۔

نیوم بندرگاہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر فلپ عزیل نے کہا 'اگست 2002 میں جب سے انہوں نے ذمہ داری سنبھالی ہے بندرگاہ پر بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے، کام میں توسیع ہے۔'

عزیل کہہ رہے تھے جب انہوں نے کام شروع کیا تو چینل تک رسائی 180 میٹر چوڑی تھی اور 12 سے 14 میٹر گہری۔ اب یہ 550 میٹر چوڑی اور 19 میٹر گہری ہوچکی ہے۔ یہ منصوبہ جدت و ندرت کا شاہکار ہے۔

عزیل نے کہا 'اس منصوبے میں ماحولیاتی مقاصد کو ترجیح میں رکھنے کی وجہ سے کوئی ایسا فضلہ سامنے نہیں آرہا جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنے۔ اس بارے میں ہم بہت حساس ہیں۔ ہم اس سلسلے میں پانی کے معیار پر بھی سٹڈیز کر رہے ہیں اور اس کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے ہماری شراکت داری چل رہی ہے۔

یہ پائیداری کا حامل منصوبہ ہے ۔ جن کا آپریشن کے دوران ہمیں سامنا کرنا ہوگا اس کا ابھی سے خیال کیا جا رہا ہے۔ یہ پرعزم و جوش پر مبنی منصوبہ ہے۔

ہماری کمٹمنٹ بڑی واضح ہے جو اس کی تعمیر اور پریکٹس کے لیے ہے 100 فیصد ہم فضلے کو ری سائیکل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ہم قابل تجدید توانائی کے منصوبے آگے لے کر چل رہے ہیں بشمول شمسی توانائی اور پاور بیٹریز کی سٹوریج کے حوالے سے۔ جو سب سے اہم معاملہ ہے وہ ہمارے لیے اس کی پائیداری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پائیدار ہو اور 50 ملین کیوبک میٹر گیلا اور خشک مواد اس کی تعمیر میں ہم استعمال کر رہے ہیں۔

صنعتی ندرت

نیوم کی بندرگاہ اوگزاگون کا دل ہے۔ جو دنیا کی جدید ترین مصنوعات سازی کا مرکز بنے گا۔ یہ 48 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوگا۔

صنعتی کارکنوں کے حوالے سںے پہلی پیش رفت قابل تجدید توانائی میں شراکت ہے۔ اس سلسلے میں ایکوا پاور ایئر پروڈکٹس اور نیوم کے درمیان نیوم گرین ہائیڈروجن ایک مشترکہ بڑا منصوبہ ہے۔

اس سے ہر روز کاربن کے بغیر 600 ٹن ہائیڈروجن پیدا کی جائے گی۔ جس کا آغاز 2026 کے اختتام سے ہوجائے گا۔
ڈیٹاوالٹ نامی کمپنی سے 1.5 گیگا واٹ کا معاہدہ ہوا یے اس کی ابتدائی سرمایہ کاری کی مالیت 5 ارب ڈالر ہے۔

وانچو نے کہا 'قابل تجدید توانائی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجی کے لیے سمندری پانی یورپ و دیگر ممالک کو زیر سمندر کیبل فراہم کرنے کے قابل ہے ۔

اوگزاگون قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجی کے صنعتی مرکز کے طور پر موجود ہے۔ اس پیش رفت میں سولر سیلز، ماڈیولز اور ونڈ ٹربائنز کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔

بندرگاہ کے توسیعی منصوبوں میں ٹرمینل 1 شامل ہے۔ ٹرمینل 2 مارکیٹ کی طلب کی بنیاد پر تعمیر کیا جائے گا بندرگاہ کا مقصد 20 فٹ کے مساوی یونٹس کو سنبھالنا ہے۔ یہ مکمل طور پر قابل تجدید توانائی سے چلتے ہیں۔

اس کا اہم فیچر جدید ترین آٹو میٹڈ سسٹم ہے۔

کیلی نے کہا کارگو گاڑیاں سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے آٹو میٹک طریقے سے مںتقل کر تی رہیں گی۔ جس کے نتیجے میں کام میں سرعت آئے گی اور تاخیر نہیں ہوگی۔

بندرگاہ پر عرشے سے جڑا ہوا یہ مربوط نظام نیوم بندرگاہ کی اہم پہچان ہے۔

معرز ابو الاعل علاقائی سطح پر سرمایہ کاری کے سربراہ ہیں جو سعودی شہریوں کے ٹیلنٹ کی تیاری کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے لیے مختلف تربیتی پروگرام چل رہے ہیں۔ ان پروگراموں میں سعودی خواتین کو سکھانے کا کام شامل ہے۔ جو بڑے بڑے کینٹینیرز اور کرینز کو خود چلا سکیں گی۔ ایک کرین اور کینٹینیر کی مالیت 15 ملین ڈالر ہے۔ یہ شنگھائی میں تیار کیے جا رہے ہیں۔

ہم اس میں کامیاب ہیں کہ سعودی ٹیلنٹ کو مائل کر سکیں۔ ایکسپرٹس کو اور ایسے لوگوں کو جو اپنے اپنے شعبوں میں ماہر ہیں۔

وانچو نے کہا اوگزاگون میں 500 لوگ ہیں جو مختلف 55 ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

بہاؤ پر مستقبل

اوگزاگون کا 10 کلومیٹر سے زیادہ کا انفراسٹرکچر بہاؤ کے دوش پر ہے اور سطح آب پر تیار کیا جا رہا ہے۔

وانچو نے کہا کہ ہم اس کے ذریعے سمندری معیشت سے فائدہ اٹھائیں گے اور گہرے پانی کی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لائیں گے۔

اس ترقیاتی منصوبے کا مقصد سعودی ویژن 2030 کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ ابو الاعل نے نیوم کے حوالے سے پیدا کیے گئے بعض شکوک کا ازالہ بھی کیا جو کہ اس کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے سامنے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چین کے علاوہ دوسرا ملک ہے جو قابل تجدید توانائی کی سب سے بڑی صنعت کو آگے لے کر جا رہے ہیں۔ جو دیکھنا چاہتا ہے وہ یہاں آکر دیکھ لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں