تونس: سابق رکن پارلیمنٹ کا قتل کیس، 8 ملزمان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

تونس میں عدالت نے منگل کے روز 8 ملزمان کو سزائے موت کی سزا سنا دی۔ یہ افراد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمنٹ محمد البراہمی کے 2013 میں ہونے والے قتل میں ملوث ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق عدالت نے کارروائی میں شریک نویں مجرم کو غائبانہ سزا سنائی جو پانچ برس قبل جیل سے فرار ہو گیا تھا۔

تونس میں عدلیہ مختلف مقدمات میں بالخصوص دہشت گرد حملوں میں ملوث مجرموں کے خلاف سزائے موت کے فیصلے جاری کرتی ہے تاہم ملک میں 1991 سے اس پر عمل درآمد روک دیا گیا۔

داعش تنظیم سے وابستہ مسلح افراد نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے البراہمی کو 25 جولائی 2013 کو ہلاک کیا۔ اس سے قبل بائیں بازو کے اپوزیشن لیڈر شکری بلعید کو فروری 2013 میں موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

بلعید کی موت میں ملوث 4 مجرموں کو گذشتہ برس مارچ میں سزائے موت دینے کا فیصلہ جاری کیا گیا۔

البراہمی نے 2011 میں عوامی انقلاب کے بعد تونس میں اقتدار سنبھالنے والی النہضہ تحریک کی پالیسی کی مخالفت کی تھی۔ البراہمی سیدی بوزید کے علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ تھے جہاں سے 2011 میں عوامی انقلاب کی چنگاری پھوٹی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں