پاکستان کے سرکاری خیراتی ادارے کی 'سب سے بڑی' رمضان ریلیف مہم کا آغاز
مساجد، یتیم مراکز، سکولوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز میں کھانے کی تقسیم
سرکاری میڈیا نے حال ہی میں اطلاع دی کہ پاکستان بیت المال (پی بی ایم) رمضان المبارک میں اپنی سب سے بڑی امدادی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ملک بھر میں 50 لاکھ سے زیادہ غریب افراد کے لیے افطار کا اہتمام کرے گا۔
پی بی ایم ایک خود مختار ادارہ ہے جو مختلف خدمات کے ذریعے غربت کے خاتمے کے لیے خیراتی منصوبے شروع کرتا ہے اور بیواؤں، یتیموں اور دیگر مستحق افراد کو امداد فراہم کرتا ہے۔
پی بی ایم کے منیجنگ ڈائریکٹر سینیٹر شاہین خالد بٹ نے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کو بتایا کہ یہ مہم "معاشرے کے مستحق ترین اور پسماندہ ترین طبقات کے لیے ہو گی۔"
ریڈیو پاکستان نے اتوار کو اطلاع دی، "پاکستان بیت المال ماہِ رمضان میں اپنی سب سے بڑی امدادی مہم شروع کرنے کے لیے تیار ہے جس کا مقصد وزیرِ اعظم کے خصوصی اقدام کے تحت ملک میں 50 لاکھ سے زیادہ افطار کھانے تقسیم کرنا ہے۔"
بٹ نے کہا کہ اس اقدام سے پورے ملک میں پھیلے ہوئے پی بی ایم کے موجودہ ضلعی سطح کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے تیار شدہ کھانا فراہم کیا جائے گا۔ مساجد، یتیم مراکز، خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز، سکولوں اور دیگر مخصوص مقامات پر افطار کے کھانے تقسیم ہوں گے۔
ریڈیو پاکستان نے شاہین خالد بٹ کے حوالے سے بتایا، "دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے تینتیس موبائل ٹرک بھی مختلف راستوں پر چلیں گے۔"
ہفتے کے روز رمضان 2025 شروع ہونے سے ایک دن قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 20 بلین روپے (71.4 ملین ڈالر) کے امدادی پیکیج کا آغاز کیا اور کہا کہ اس کا مقصد ملک بھر کے 40 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
حکام نے بتایا کہ پیکج کے مطابق پاکستانی حکومت رمضان کے مہینے میں پورے ملک میں تقریباً چالیس لاکھ خاندانوں کو فی کس 5,000 روپے (17.87 ڈالر) فراہم کرے گی۔
شریف نے کہا تھا کہ رقم ڈیجیٹل والیٹ سسٹم کے ذریعے چاروں پاکستانی صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کے لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔
اگرچہ جنوری میں پاکستان میں افراطِ زر کی شرح گذشتہ سال کی اسی مدت میں 24 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 2.4 فیصد پر آ گئی ہے لیکن کئی پاکستانی بدستور مالی مسائل کا شکار ہیں۔