جانوروں کی شکل میں جنات بھی چھپے ہوتے ہیں : سابق مفتی اعظم مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کے سابق مفتی اعظم اور جامعہ الازہر کی سینئر علماء کمیٹی کے رکن ڈاکٹر علی جمعہ کا کہنا ہے کہ "یہ حقیقت ہے کہ جنات مختلف صورتیں اپنا کر آتے ہیں ... ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر اژدھے نے حملہ کیا تھا ... اگر جانور اس طریقے سے انسان پر حملہ کرے تو وہ دائرہ اعتبار سے خارج ہو جاتا ہے"۔
ڈاکٹر علی جمعہ مصری ٹی وی چینل کے پروگرام "نور الدین والدنیا" میں شریک تھے۔ ایک طالبہ نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ "کیا جنات جانوروں مثلا کالی بلی کی شکل میں ظاہر ہو سکتے ہیں؟"۔

ڈاکٹر علی جمعہ کا کہنا تھا کہ "جب اژدھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوا تو انھوں نے اسے ہلاک کر دیا، اس پر سیدہ کو آگاہ کیا گیا کہ انھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عِفریت (جن) کو قتل کر دیا جس کو بلقیس کا تخت لانا تھا ، اس پر سیدہ عائشہ نے جواب دیا کہ حملہ اس کی طرف سے ہوا تھا ... ہم رحم کرنے والے ہیں مگر رحمت میں بھی انصاف کے تقاضے ہوتے ہیں"۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر علی جمعہ نے مزید کہا کہ اگر ایسے ضرر رساں جانور ہوں جو انسان کو تکلیف پہنچا رہے ہوں تو انھیں ہلاک کر دینا ناگزیر ہے۔ مثلا ان میں پاگل کتا یا پاگل بلی شامل ہے جن کو قتل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ اس کا مقصد انسانی زندگی اور اس کی سلامتی کا تحفظ ہے۔

ڈاکٹر علی جمعہ نے نصیحت کی کہ اگر اس طرح کی صورت حال میں جانور کو ہلاک یا کاٹنا پڑے تو یہ کام اچھے طریقے سے انجام دینا چاہیے۔ بعض لوگ چوہے دانوں کے ذریعے چوہے پکڑ کر انھیں پتھر مارتے رہتے ہیں یا ان کو آگ سے جلا دیتے ہیں ... یہ مسلمانوں کے اخلاق نہیں ، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں