لبنان اور شام کے درمیان سرحد پر بالخصوص الہرمل (لبنان) کے علاقے میں ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی۔ اس سے قبل دو روز تک لبنانی گاؤں القصر کے اطراف خون ریز جھڑپیں جاری رہیں۔ جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
علاقے میں لبنانی دیہات اور قصبوں کو شامی اراضی کی سمت سے بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح لبنان کی سمت سے شامی علاقوں پر گولہ باری کی گئی۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کے ذریعے ان جھڑپوں کا خاتمہ ہوا۔
ان جھڑپوں کے چھڑنے کی وجوہات کیا ہیں اور ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ اس حوالے سے کئی روایتیں سامنے آئی ہیں۔ شامی وزارت دفاع کے مطابق لبنانی حزب اللہ کے عناصر شام میں حمص کے مغرب میں واقع علاقے میں داخل ہوئے اور شامی فوج کے تین اہل کاروں کو اغوا کر لیا۔ سرکاری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لبنان کی سمت سے فائرنگ کا سلسلہ لبنانی فوج نے شروع کیا جس میں شامی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
"قبائلی یا اسمگلر"
تاہم ان ہی سرکاری ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ جھڑپیں قبائلی افراد اور اسمگلروں کے بیچ شروع ہوئی ہوں تاہم پھر لبنانی فوج نے مداخلت کی اور شام کی سمت فائرنگ کے ذرائع کو جواب دیا۔
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شامی عناصر نے لبنانی اراضی کے اندر سے دو لبنانیوں (بھائیوں) کو اغوا کر کے قتل کر دیا۔ ذرائع نے واضح کیا کہ وہ البقاع میں حزب اللہ اور قبائل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ مزید یہ کہ معاملات لبنانی فوج کے حوالے کرنے کے بعد سرحد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سیکورٹی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لبنانی فوج نے شام کے ساتھ مشرقی سرحد پر بالخصوص الہرمل کے شمال اور مشرق میں اپنے یونٹوں کو تعینات کر دیا ہے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ جو کچھ ہوا وہ شام کے اندر در اندازی نہیں تھی بلکہ یہ شامی عناصر اور سرحدی علاقے کی آبادی کے بیچ اختلاف تھا۔ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ لبنانی جانب سے فائرنگ کس نے کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جو کچھ ہوا اس کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔
لبنان کے وزیر اطلاعات نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ "مارے جانے والے تینوں شامی اسمگلر تھے، وہ شامی فوج کے ارکان نہیں تھے"۔ وزیر کے مطابق بم باری کا سلسلہ لبنان کی جانب سے نہیں بلکہ شام کی جانب سے شروع ہوا۔
دوسری جانب شامی فوج کے بریگیڈ 52 کے کمانڈر کرنل عبدالمنعم ضاہر نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ لبنان میں قتل ہونے والے افراد بریگیڈ 52 کے شامی فوجی ہیں۔
انھوں نے لبنانی وزیر اطلاعات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ اپنی معلومت درست کر لیں"۔
کرنل عبدالمنعم کے مطابق لبنانی فوج کی اعلی سطح کے ساتھ رابطہ کاری موجود ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ ہمارے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہمیں حزب اللہ کی حمایت یافتہ جماعتوں کی جانب سے مختلف ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے"۔ شامی کرنل نے واضح کیا کہ "ہماری کارروائیاں حزب اللہ کے خلاف ہیں لبنانی فوج کے خلاف نہیں، ہم لبنانی دیہات میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے"۔
یادر ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب شام اور لبنان کے درمیان 375 کلو میٹر طویل سرحد پر دونوں ملکوں کے بیچ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اس سرحد پر بہت سی غیر قانونی کراسنگ موجود ہیں جن کے ذریعے اسمگلنگ کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔