اسرائیل کوجنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی کا موقع دینا چاہیے: لبنانی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے وزیر خزانہ یاسین جابر نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ "اسرائیل قرارداد 1701 کی پاسداری نہیں کر رہا ہے اور لبنانی فوج کو شرمندہ کر رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ہمیں امید ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی لبنان کی سرزمین سے نکلنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے گی۔ انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کی جب جنوبی لبنان سے تین راکٹ اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔

العربیہ اور الحدث چینلز کے ساتھ ایک انٹرویو میں جابر نے زور دے کر کہا کہ "دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے اور فوج ہر جگہ تعینات کر دی گئی ہے۔ دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے"۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ "ہم نے فوج کو مضبوط کرنے کے لیے 4500 فوجیوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل کو لبنانی فوج کو زمین پر تعینات کرنے کی اجازت دینی چاہیے"۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی توپخانے کی گولہ باری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے سرحد کے تقریباً چھ کلومیٹر شمال میں لبنانی علاقے سے داغے گئے تین راکٹوں کو روک دیا۔نومبر میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد لڑائی ختم ہونے کے بعد سرحد پار سے راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ فوج نے توپ خانے کی طرف سے فائرنگ کا جواب دیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی توپ خانے جنوبی لبنان کے دو قصبوں کو نشانہ بنایا اور اس فضائی حملے نے سرحد کے قریب تین دیگر قصبوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے ہفتے کے روز کہا کہ لبنانی حکومت اپنی سرزمین سے فائر کیے گئے کسی بھی میزائل کی ذمہ داری تصور کی جائے گی۔

انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہم لبنان سے الجلیل کے قصبوں پر راکٹ داغنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے الجلیل کے قصبوں کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور بالکل ایسا ہی ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں