سیز فائر کی خلاف ورزی کے بعد اسرائیل کی بیروت کو دھمکی، لبنان کا نئی جنگ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہفتہ کو اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی لبنان کے قصبوں حولا، مرکبا اور یحمر الشقیف پر گولہ باری کی ہے۔ یہ بمباری اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے فوراً بعد کی گئی جب اسرائیل نے لبنان سے داغے گئے پانچ میں سے تین میزائلوں کو سرحدی شہر المطلہ میں روک دیا۔ یہ 3 ماہ سے زائد عرصے میں اپنی نوعیت کی جنگ بندی کی پہلی خلاف ورزی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بظاہر باقی دو میزائل لبنان میں گرے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے جوابی کارروائی میں لبنان کے اندر موجود مقامات پر توپ خانے سے فائرنگ کی ہے۔ لبنانی ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ 10 اسرائیلی گولے یحمر الشقیف، ارنون اور کفر تبنیت میں گرے۔ لبنانی میڈیا نے بتایا کہ دیر سریان اور عدشیت میں یونیفل مراکز میں سائرن بجائے گئے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ تلۃ الحمامص میں اسرائیلی فورسز نے مرکبا اور حولا کی طرف فائرنگ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی طیاروں نے مشرقی سیکٹر پر بھی پروازیں کی ہیں جس سے اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کو روکنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی کے ساتھ لبنانی رابطوں کا اشارہ ملتا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی سرزمین سے داغے جانے والے کسی بھی میزائل کا ذمہ دار لبنانی حکومت کو ٹھہرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ میزائل داغےجانے کا "مناسب" جواب دیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ المطلہ کو نشانہ بنانا بیروت کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے جنوبی سرحد پر نئے سرے سے فوجی کارروائیوں کے خلاف خبردار کیا ہے کیونکہ ملک کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کے خطرات ہیں جو لبنان اور لبنانیوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گی۔ نواف سلام نے قومی دفاع کے وزیر میجر جنرل مائیکل مانسی کو کال کی اور تمام ضروری حفاظتی اور فوجی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور امن کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق صرف ریاست کو ہے۔

نواف سلام نے لبنان میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ذاتی نمائندے جینین پلاسچارٹ کو بھی فون کیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کے لیے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ کو دوگنا کرے کیونکہ یہ قبضہ بین الاقوامی قرارداد کی خلاف ورزی ہے ۔

اگرچہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 27 نومبر 2024 کو امریکی ثالثی سے عمل میں آیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل اب بھی جنوبی اور مشرقی لبنان کے کئی علاقوں پر حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے عناصر اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور وہ جنگ کے بعد حزب اللہ کو اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ تیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں 92,800 سے زیادہ لوگ اب بھی بے گھر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں