ٹرمپ کی دھمکی کام کر گئی: کولمبیا یونیورسٹی پالیسی میں تبدیلیوں رضامند

ٹرمپ کا دیگر تعلیمی اداروں کو مالی اعانت میں کٹوتی کا نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کولمبیا یونیورسٹی نے جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک غیر معمولی الٹی میٹم پر خاموشی سے رضامندی ظاہر کر دی اور

اپنے شعبۂ علومِ شرقِ اوسط (مڈل ایسٹ سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ) کو نئی نگرانی میں رکھنے اور احتجاج اور طلباء کے نظم و ضبط کے لیے اپنے قواعد میں تبدیلی کرنے پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا تھا کہ یہ اور دیگر تبدیلیاں یونیورسٹی میں نافذ کی جائیں ورنہ وفاقی فنڈنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کریں۔

یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ کا ایک خط جمعہ کو شائع ہوا جس کے مطابق وسیع تر اصلاحات کے طور پر یونیورسٹی یہود دشمنی کی ایک نئی تعریف اختیار کرے گی اور اپنے انسٹی ٹیوٹ فار اسرائیل اور جیوش سٹڈیز میں عملے کے ذریعے "فکری تنوع" کو وسعت دے گی۔

اس اعلان کی بعض فیکلٹی اور آزاد تقریر کے حامی گروہوں نے فوری مذمت کی جنہوں نے یونیورسٹی پر الزام لگایا کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکول کی تعلیمی آزادی میں بہت حد تک بے مثال مداخلت کو خاموشی سے قبول کر لیا۔

نیویارک سول لبرٹیز یونین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈونا لائبرمین نے ایک بیان میں کہا، "کولمبیا کے سرِ تسلیم خم کرنے سے ملک بھر میں تعلیمی آزادی اور کیمپس کے اظہارِ رائے کو خطرہ لاحق ہے۔"

اس ماہ کے شروع میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے خلاف یونیورسٹی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے تحقیقی گرانٹس اور دیگر فنڈز میں 400 ملین ڈالر کی کٹوتی کی۔ ان فنڈز اور مستقبل میں مزید اربوں کی امداد کی بحال کرنے کی پیشگی شرط کے طور پر وفاقی حکام نے گذشتہ ہفتے یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تعلیمی اور سکیورٹی پالیسیوں میں فوری طور پر نو الگ الگ اصلاحات نافذ کرے۔

جمعہ کو اپنے جواب میں آرمسٹرانگ نے عندیہ دیا کہ کولمبیا تقریباً تمام شرائط نافذ کرے گی۔ انہوں نے کالج کے دیرینہ تادیبی عمل میں اصلاحات لانے اور تعلیمی عمارات کے اندر احتجاج روکنے پر اتفاق کیا۔ طلباء کو کیمپس میں "شناخت چھپانے کی غرض سے" چہرے پر ماسک پہننے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صحت کے مسائل کی بنا پر ماسک پہننے کے لیے استثنیٰ ہو گا۔

یونیورسٹی متعدد بین الاقوامی علوم کے شعبہ جات کی قیادت اور نصاب کا جائزہ لینے کے لیے ایک نئے سینئر پرووسٹ کا تقرر بھی کرے گی تاکہ "اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی پیشکش جامع اور متوازن ہوں۔"

یہ تقرری ٹرمپ انتظامیہ کے انتہائی متنازعہ مطالبے میں بظاہر رعایت ہے: یونیورسٹی اپنے شرقِ اوسط، جنوبی ایشیائی اور افریقی علوم کے شعبے کو "کم از کم پانچ سال کے لیے تعلیمی معاملات کے بیرونی کنٹرول" کے ماتحت رکھے۔

امریکی ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز کی اکیڈمک فریڈم کمیٹی کے ایک رکن اور مؤرخ جان سکاٹ نے گذشتہ ہفتے بیرونی کنٹرول کے بارے میں کہا، "یہ ایک ایسی قسم کا اضافہ ہے جس کے بارے میں پہلے سننے میں نہیں آیا۔ حتیٰ کہ امریکہ میں میکارتھی کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا۔"

ٹرمپ انتظامیہ نے بارہا کولمبیا یونیورسٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں یہود دشمنی کو نہیں روکا۔ یہ مظاہرے گذشتہ موسمِ بہار میں یونیورسٹی میں شروع ہوئے اور تیزی سے دوسرے کیمپسز میں بھی پھیل گئے۔

اپنے خط میں آرمسٹرانگ نے لکھا، "جس طرح کولمبیا اور کولمبیا کے طلباء کو پیش کیا گیا ہے اس کا سامنا کرنا مشکل ہے۔ ہمیں چیلنجز تو درپیش ہیں لیکن وہ ہماری درست عکاسی نہیں کرتے۔"

اگرچہ ٹرمپ نے کولمبیا کو اعلیٰ تعلیمی ادراروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا نمایاں ترین ہدف بنایا ہے لیکن انہوں نے دوسری جامعات کو بھی نوٹس دیا ہے کہ اگر وہ ان کے ایجنڈے کو قبول نہ کریں تو انہیں کٹوتیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

گذشتہ ہفتے ان کی انتظامیہ نے 52 جامعات کے تنوع، مساوات اور شمولیت کے پروگراموں کی تحقیقات کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں