’تاریخ کا قتل عام‘سوڈان کا نیشنل میوزیم ملبے کا ڈھیر، ہزاروں قیمتی نوادرات چوری
،سوڈانی عوام سوگ میں
سوڈان میں ہزاروں سال پرانے خرطوم کے قومی عجائب گھر کی تباہی کے مناظر نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ میوزیم ملک کے سب سے نمایاں تاریخی مقامات میں سے ایک ہے، جس میں ہزاروں سال پر محیط ثقافتی ورثہ موجود ہے۔
اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں تباہ شدہ میوزیم کو کھنڈر میں تبدیل دیکھا جا سکتاہے۔ خالی ہال، بکھرے مجسمے اس کی باقیات ہیں۔ ماضی کو جنگی مشین نے اسے بے رحمی سے کچل کررکھ دیا ہے۔
اس تباہی کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم غم اور غصے سے بھرپور جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے باغی گروپ ’ریپڈ سپورٹ فورسز ‘پر الزامات لگایا انہوں نے دو سال قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے میوزیم پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔
کچھ لوگوں نے اس واقعے کو "تاریخ کا قتل عام" کا قرار دیا۔میوزیم کو سوڈان کے سب سے نمایاں ورثے کے ذخیرے میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہ مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے رہائشی نمونوں کے علاوہ پتھر کے زمانے سے لے کر کرما، ناپاتا ، میرو تہذیب، عیسائی اور اسلامی ادوار کی نشانیاں اور تاریخی نوادرات موجود تھیں۔
سوشل میڈیا کارکنوں اور آثار قدیمہ کے شائقین نے ہیش ٹیگ #SaveSudan'sAntiquities شروع کیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ سوڈان میں آثار قدیمہ کی بے مثال تباہی کی طرف مبذول کرائی جائے اور اس کے ثقافتی ورثے کی باقیات کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
سوڈان میں آثار قدیمہ کی غیر مسبوق تباہی اور قومی عجائب گھر کی منظم لوٹ مار
العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سوڈانی نوادرات اور عجائب گھر اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر اخلاص عبداللطیف نے اس واقعے کو "تمام معیارات کے لحاظ سے ایک تاریخی تباہی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تقریباً 90 فیصد آثار قدیمہ کے ذخیرے تباہ ہو گئے ہیں اور اس ملک میں اب تک کے سب سے زیادہ نفرت انگیز عمل میں سے ایک ہے۔
عبداللطیف نے صدمے اور دکھ کے ساتھ مزید کہا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف آثار قدیمہ کے خزانے کو چرایا بلکہ اس کے تالے توڑ کر محفوظ شدہ سونا بھی لوٹ لیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی کوشش تھی جس میں آثارقدیمہ کے اس اہم مرکز کو لوٹا گیا ہے۔ بے شمار نودارت کی توڑپھوڑ کرکے انہیں زمین پر پھینک دیا گیا انہیں پیروں تلے کچل دیا، گویا مقصد صرف چوری کرنا نہیں تھا بلکہ شناخت اور تاریخ کو مٹانا تھا۔
سوڈان میوزیم میں توڑ پھوڑ صرف نوادرات کی لوٹ مار تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ نوادرات اور عجائب گھر اتھارٹی کی عمارتوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں ملک کی تاریخ کے محافظ کے طور پر کام کرنے والے ادارے کے کسی بھی نشان کو مٹانے کی واضح کوشش میں کمپیوٹر سمیت فرنیچر اور آلات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔
میوزیم کا دورہ کرنے والی خصوصی کمیٹی کے ابتدائی جائزے کے مطابق، تباہی کی حد بہت زیادہ ہے اور تقریباً ہر قیمتی چیز کی توڑپھوڑ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ"ہم آلات اور فرنیچر کو تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن جو تاریخ چوری اور تباہ ہو گئی اسے کون واپس کرے گا؟ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے.ان خزانوں کا ضائع ہونا ایک انمول انسانی ورثے کا نقصان ہے"۔
سوڈانی میوزیم ڈائریکٹر الطیب صدیق نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ "آج ہم نے نیشنل میوزیم کا دورہ کیا۔ صرف سوڈانی شیر دیوتا اپیڈیمک، رام دیوتا امون، وادی نیل کے دیوتا، بادشاہ طہارقہ اور کچھ دیواریں بچی ہیں۔اور ان کے پاس اینٹوں کے ڈھیر ہیں۔ سوڈانی ماہرین آثار قدیمہ اور سوڈانی عوام کے لیے ہماری طرف سے اس تباہی پر ہماری طرف سے تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ایک بھرپور تاریخ کے ساتھ تعمیراتی شاہکار نیل کے کنارے خاص طور پر نیل روڈ پر فرینڈشپ ہال سے ملحق سوڈان کا نیشنل میوزیم 1971 میں قائم کیا گیا تھا۔اس میں ایک لاکھ سے زیادہ نودارات اور نمونے رکھے گئے ہیں، جو کہ اسلامی دور سے لے کر قدیم زمانے تک کے تاریخی ابواب کو بیان کرتے ہیں۔
میوزیم کی جڑیں 1904 ءسے شروع ہوئی ہیں جب یہ خرطوم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے اس کے موجودہ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ سوڈان کے سب سے نمایاں ثقافتی مقامات میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس میں کوشائٹ اور نیوبین تہذیبوں کے نایاب نمونے، نیز فرعونی مندروں اور عیسائی ادوار کی نوادرات شامل ہیں۔
اس میں موجود نوادرات سیلاب سے بچ گئیں مگر جنگ سے نہیں بچ سکیں۔ میوزیم کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک وسیع صحن ہے، جس میں کبھی کھلے میدان میں موجود مندر، مقبرے اور یادگاریں تھی جو 1960 کی دہائی میں ہائی ڈیم کی تعمیر کے دوران ڈوب جانے سے بچ گئے تھے۔ وہاں کا منظر ایک پینٹنگ جیسا تھا، کیونکہ یہ نمونے پانی کے طاس کے گرد دوبارہ جمع کیے گئے تھے، جس سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ اب بھی دریائے نیل کے کنارے اپنی اصل جگہ پر کھڑے ہیں۔
سوڈان میوزیم میں منظم لوٹ مار سے اسےناقابل تلافی نقصان لیکن یہ نشانیاں اس جنگ کے اثرات سے نہیں بچ سکیں‘‘۔ گذشتہ ستمبر میں میوزیم کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا۔ نیشنل اتھارٹی برائے نوادرات اور عجائب گھر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غالیہ جار النبی نے انکشاف کیا کہ میوزیم کے مرکزی ذخیرہ کرنے کی سہولیات سے ہزاروں نوادرات چوری ہو گئے تھے۔
اس وقت کھینچی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں نوادرات سے لدے ٹرکوں کو جنوبی سوڈان کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ ایک ایسی پیشرفت ہے جس نے ان تاریخی خزانوں کی قسمت کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا۔
نیشنل میوزیم ہی افراتفری کا شکار نہیں تھا۔ دیگر آثار قدیمہ کے مقامات کو بھی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دارفور میں نیالا میوزیم، ام درمان میں خلیفہ عبداللہ الطائیشی میوزیم اور خرطوم میں ریپبلکن پیلس اور نیچرل ہسٹری میوزیم کی لوٹ مار کی گئی۔