بھارت امریکہ تجارت کے لیے تعاون و ترقی میں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ کے سلسلے میں معاہدے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس امر کا اظہار کئی دن تک جاری رہنے والے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سرکاری حکام نے ہفتے کے روز کیا ہے۔

مذاکرات میں بھارت کے وزیر تجارت کے زیر قیادت اعلی سطح کی بھارتی ٹیم شامل رہی۔ جبکہ امریکی وفد میں امریکہ کے جنوبی ایشیا کے لیے تجارتی معاون نمائندہ برینڈن لینچ کے زیر قیادت وفد شامل رہا ہے۔ یہ مذاکرات 26 مارچ سے 29 مارچ تک جاری رہے۔

یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف بڑھانے کے منصوبے سلسلے میں سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے کئی تجارتی شراکت داروں کو اپنے مجوزہ نئے ٹیرف کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر بھارت سمیت کئی ملکوں نے تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ تاہم بھارت کے ساتھ تفصیلی بات چیت کا فیصلہ کیا گیا۔

مذاکرات کے سلسلے میں جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کا کامیاب اختتام دونوں ممالک کی خوشحالی و سلامتی کے سلسلے میں خوش آئند ثابت ہوگا۔جس کے نتیجے میں امریکہ اور بھارت کے دو طرفہ تجارتی و سرمایہ کاری کے میدان میں تعاون بڑھانے کی کوششوں میں پیش رفت ہوگی۔

پچھلے مہینے، وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے دورہ کے موقع پر بھارت نے توانائی سے متعلق امریکی مصنوعات اور دفاعی ساز و سامان کی خریداری کو فروغ دینے کو اپنے ہاں فروغ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

فریقین نے 2030 تک 500 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت کو ہدف بنانے والے معاہدے کے بارے میں بھی اتفاق کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو اس موقع پر ٹیرف کنگ قرار دیا تھا۔ جس میں امریکہ بھارت سے زرعی سامان اور الکوحلک مشروبات اور آٹوموبائل شعبے کی مصنوعات پر محصولات کو کم کرنے اور امریکی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مارکیٹ تک رسائی کا خواہش مند ہے۔

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے بھی اس ماہ کے شروع میں امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریر اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ساتھ بات چیت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔

جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کے لیے متعلقہ شعبوں کے ماہرین آنے والے ہفتوں میں عملی طور پر اپنا کام شروع کر دیں گے۔ جس کے بعد مذاکرات کا زیادہ اہم دور شروع ہو گا۔

خیال رہے امریکہ اس وقت بھارت کے ساتھ تجارت میں 45.6 ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کر رہا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یو ایس ٹریڈ ویٹڈ اوسط ٹیرف کی شرح تقریباً 2.2 فیصد ہے۔جبکہ بھارت کا اوسط ٹیرف 12 فیصد ہونے کی وجہ سے واضح طور پر زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں