عید آ گئی مگر اس جنگ بندی کا کچھ پتا نہیں جس کی امید غزہ کے باسی کر رہے تھے۔ اس کے بدلے انھیں اسرائیل کی جانب سے رفح کے علاقے الجنینہ میں زمینی آپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔
مسلسل بم باری اور تباہی کے باوجود اہل غزہ نے آج اتوار کے روز اپنے طور پر عید الفطر منانے کا پورا اہتمام کیا۔
غزہ کی پٹی میں جنگ کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
غزہ کی آبادی نے عید کی نماز مساجد کے ملبے کے بیچ ادا کی۔ اس موقع پر انھیں اپنے پیارے یاد آئے جو جنگ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر وہ انھیں دفنا نہیں سکے۔ رپورٹوں کے مطابق ملبے کے نتیجے ہزاروں لاشیں موجود ہیں جن کو نکالنا دشوار ہے۔
غزہ شہر میں مقامی آبادی نے عید کی نماز مسجد العمری الکبیر میں ادا کی۔ اسرائیلی حملوں میں مسجد جزوی طور پر تباہی کا شکار ہوئی۔
غزہ میں آج عید کے روز علی الصبح اسرائیلی حملے کے سبب 10 افراد ہلاک اور لا پتا ہو گئے۔
غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البریج کیمپ میں سیکڑوں شہریوں نے نماز عید کے لیے سڑکوں پر صفیں بنائیں۔ ادھر خان یونس میں نمازیوں نے مسجدوں کے ملبے پر نماز عید ادا کی۔
خان یونس میں عید کی تکبیرات کی آوازوں کے بیچ اسرائیل نے شہر کے مشرق میں واقع عبسان ٹاؤن کو توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران میں غزہ کی پٹی میں 1109 مساجد کو شہید کیا۔
ابتر انسانی حالات اور اسرائیل کی جانب سے جنگ رکھنے کے باوجود غزہ کی پٹی کے بعض بازاروں میں حجام کی دکانوں کے علاوہ کھلونوں اور مٹھائیوں کی دکانوں پر شہریوں کی آمد و رفت دیکھی گئی۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخلہ روک دینے کے سبب ضروریات زندگی کی اشیاء کی شدید قلت ہے۔ اس کے باوجود فلسطینی ماؤں نے عید آنے پر اپنے بچوں کو دھندلی سے خوشی فراہم کرنے کے لیے ایسی بھٹیوں پر سادہ سی چیزیں تیار کیں جن کا ایندھن لکڑی ہے۔ غزہ میں روایتی ایندھن کی شدید قلت ہے۔