اسرائیل کی برطانیہ کے دو ارکانِ پارلیمان کی حراست ’ناقابلِ قبول‘ ہے: برطانیہ

آج رات دونوں ممبران سے رابطے میں ہیں: وزیرِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ڈیوڈ لیمی نے ہفتے کے روز کہا، اسرائیل کا برطانیہ کے دو قانون سازوں کو حراست میں لینا اور انہیں ملک میں داخلے سے روک دینا "ناقابلِ قبول" اور گہری تشویش کا باعث ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حکومتی لیبر پارٹی کے یوان یانگ اور ابتسام محمد نے لندن سے اسرائیل کے لیے پرواز کی لیکن انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک کر ملک بدر کر دیا گیا۔

لیمی نے ایک بیان میں کہا، "یہ ناقابلِ قبول، مطلوبہ نتائج کے برعکس اور گہری تشویش کا باعث ہے کہ اسرائیل جانے والے پارلیمانی وفد میں شامل دو برطانوی اراکین کو اسرائیلی حکام نے حراست میں لے کر داخلے سے روک دیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "میں نے اسرائیلی حکومت میں اپنے ہم منصبوں پر واضح کر دیا ہے کہ یہ برطانوی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ سلوک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں اور ہم اظہارِ حمایت کے لیے آج رات دونوں اراکین سے رابطے میں ہیں۔ برطانوی حکومت کی توجہ جنگ بندی کے دوبارہ نفاذ اور خونریزی کو روکنے، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنے پر مرکوز ہے۔"

اسرائیل کے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دینے سے حماس کے ساتھ ایک مختصر جنگ بندی ختم ہو گئی جس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے علاقے پر قبضہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ مزاحمت کاروں کو اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کرنے پر مجبور کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں