اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس وقت شام پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے تھے جب یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ ترکیہ شام کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان حملوں کو انقرہ کے لیے پیغام سمجھا گیا۔ ایسے میں یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا یہ اسرائیلی بمباری ترک فریق کو ان اڈوں کو قائم کرنے سے روک سکے گی۔ خاص طور پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے اس بیان کے بعد جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں اسرائیل کے ساتھ کوئی تصادم نہیں چاہتا۔
تل ابیب نے چند روز قبل حماۃ کے فوجی ہوائی اڈے اور T4 اور پالمیرا کے اڈوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچنے کے بعد ترک فریق کو ان دونوں مقامات سے فائدہ اٹھانے سے روکا گیا ہے۔
انقرہ اور تل ابیب میں کوئی تنازع نہیں
اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ترک ماہر تعلیم اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر حیدر چاکماک نے کہا ہے کہ ترکیہ کو شام کی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ترک صدر رجب طیب ایردوان اس معاملے کا فائدہ اٹھا کر خارجہ پالیسی کی طرف توجہ مبذول کرا کر اندرونی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے رائے عامہ کو ہٹا سکتے ہیں۔
انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیانات میں یہ بھی کہا کہ شام میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم اور جنگ چھڑنے کا امکان بہت کم اور محدود ہے۔ انہوں نے اسرائیلی دھمکیوں اور ان جگہوں پر بمباری کے بعد جہاں ان اڈوں کے قائم ہونے کا امکان تھا شام میں فوجی اڈے قائم کرنے کے انقرہ کے عزم کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ان کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔
دو اہم عوامل
لیکن سیاسی تجزیہ کار اور ترکی کے امور کے محقق خورشید دلی نے ترکیہ کی جانب سے شام میں فوجی اڈے قائم کرنے کے معاملے کو دو عوامل سے جوڑا۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پہلا عنصر اسرائیلی موقف ہے جو اس طرح کے اڈوں کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ان اڈوں کی وجہ سے انقرہ بالآخر تل ابیب کے ساتھ تصادم کی طرف نہیں جائے گا۔
خورشید دلی کے مطابق دوسرے عنصر کا تعلق شامی اتھارٹی کے موقف سے ہے۔ شامی اتھارٹی کا خیال ہے کہ اس کی سرزمین پر اسرائیل اور ترکیہ کا کوئی بھی تصادم اس کے وجود اور مستقبل کے سیاسی آپشنز کے لیے خطرہ بنے گا۔ انہوں نے کہا ان اڈوں کو قائم کرنے کی ترک خواہش کو ایک طرح سے مسترد کیا جا سکتا ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان قوانین کا متبادل جغرافیائی قربت کی وجہ سے اپنی سرزمین کے اندر سے فوجی اڈوں کے فعال کردار کو پورا کرنے کے امکان میں مضمر ہے۔ چونکہ ترکیہ کے پاس داعش سے لڑنے کا بہانہ ہے اور شام کے ساتھ ترکیہ کے کچھ سرحدی شہر اس مقام سے صرف دسیوں کلومیٹر کے فاصلے پر ہیںجہاں داعش موجود ہے۔ انہوں نے کہا ترکیہ شام کی حکومت کے ساتھ داعش کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون کو بڑھا سکتا ہے اور ساتھ ہی ضروری سازوسامان کی مدد بھی کر سکتا ہے۔
ترکیہ نے شام میں داعش سے لڑنے کی اپنی خواہش کا بار بار انکشاف کیا ہے جس کا مقصد شامی جمہوری فورسز (SDF) کے لیے امریکی حمایت کو روکنا ہے۔ ترکیہ ایس ڈی ایف کو کردستان ورکرز پارٹی کی توسیع سمجھتا ہے اور کردستان ورکرز پارٹی پر پابندی ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل نے شام کے اندر فوجی اڈے قائم کرنے کی ترکیہ کی خواہش کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا کیونکہ اس نے ان مقامات پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے تھے جہاں انقرہ ان اڈوں کو قائم کرنا چاہتا تھا۔ چار ذرائع نے چند روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ترکیہ نے شام میں کم از کم تین فضائی اڈوں کا معائنہ کیا ہے جہاں وہ اس ہفتے اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کے ذریعے ان مقامات پر بمباری کرنے سے پہلے ایک منصوبہ بند مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی افواج کو تعینات کر سکتا ہے۔