ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات آگے نہ بڑھے تو فوجی کارروائی اسرائیلی قیادت میں ہوگی : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز انتباہ کیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں پیش رفت نہ ہو سکی اور ایران نے اسے ترک نہ کیا تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں اسرائیل قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار ایسے موقع پر کیا ہے جب اس ہفتہ کے اختتام پر امریکہ و ایران کے درمیان اومان میں مذاکرات طے ہو چکے ہیں ۔ تاہم ایران کا بھی اصرار ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔

دوسری طرف امریکہ کی طرف سے بھی یہ عندیہ سامنے آیا ہے کہ اگر براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اومان نہیں جائیں گے۔ خیال رہے اومان میں یہ متوقع مذاکرات وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونا ہیں۔ جس میں ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔

تاہم ان مذاکرات سے پہلے بدھ کے روز ٹرمپ نے بڑے کھلے الفاظ میں یہ کہا ہے کہ اگر وہ اس مسئلے کو فوجی بنان اچاہتے ہیں تو ہمارے پاس فوج موجود ہے اور ہم فوج کا استعمال کریں گے اور ظاہر ہے اس معاملے میں اسرائیل غیر معمولی طور پر متعلقہ ریاست ہوگا۔ بلکہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے ایک تاثر کو دور کرنے کے لیے کہا 'تاہم کوئی ہماری قیادت نہیں کر سکتا اور وہی ہوگا جو ہم چاہیں گے۔'

اسی ہفتہ کے شروع میں ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کے حوالے سے ایران کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا اس سلسلے میں اسرائیل و امریکہ ایران سے مشترکہ اہداف کا حصول چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔

اسرائیلی رہنما جسے ایران کے خلاف جارحانہ سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، ایران کے خلاف فوجی دباؤ کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم اس رہنما نے کہا کہ 2003 کے لیبیا کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے طرز پر اسرائیل ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کا خیر مقدم کرے گا۔'

2003 کے لیبیا معاہدے میں معمر قذافی نے لیبیا کے جوہری پروگرام کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کو ترک کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے مقاصد پرامن ہیں اور جوہری توانائی کے بین الاقوامی شعبے 'آئی اے ای اے' کا بھی اس سے اتفاق ہے۔

نیتن یاہو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک اچھی بات ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر کچھ ہو گیا تو ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔

ادھر امریکہ تہران کے جوہری بموں کے قریب پہنچ جانے کی اطلاعات کے بارے میں اپنی تشویش کو تہران کے حوالے سے مسلسل زیادہ ہوتے دیکھ رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ میں آنے والے دنوں میں کوئی ایسی متعین ٹائم لائن نہیں دے سکتا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہوئے تو ان کے نتائج کب تک سامنے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا جب آپ بات چیت شروع کرتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں یا ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔

خیال رہے 2015 میں امریکہ و عالمی طاقتوں نے اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے معاہدے کے نتیجے میں تہران کی یورینیئم افزودگی کو محدود کر دیا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں یکطرفہ طور پر 2018 میں امریکہ کو جوہری معاہدے سے الگ کر لیا۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی مزید 5 اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جبکہ ایک ایرانی شخصیت بھی ان نئی پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں مدد کر رہے تھے۔

پابدنیوں کی زد میں آنے والے اداروں میں 'اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران' اور 'ایران سینٹیفیوج ٹیکنالوجی کمپنی' شامل ہے۔ اسی طرح 'تھوریئم پاور کمپنی ' ، 'پارس ریئکٹرز کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی' اور 'ازراب انڈسٹریز کمپنی' شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا 'میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک عظیم ملک بنے مگر جو چیز وہ نہیں رکھ سکتے وہ اکلوتی چیز جوہری ہتھیار ہیں اور اس بات کا انہیں بھی اندازہ ہے۔'

بدھ ہی کے روز ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے دوبارہ اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں