فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ ' ہمیں آگے تسلیم کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے، ہم اس سلسلے میں ماہ جون تک ایسا کر سکیں گے۔ میکروں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات مصر کے دورے کے دوران فرانس 5 ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔
فلسطینی ریاست کو رسمی طور پر تسلیم کرنے کا پیرس کی طرف سے اعلان اسرائیل کو ناراض کرنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ فرانس کے صدر کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کی طرٖف سے یہ منصوبہ بنایا جارہا ہے کہ فلسطین کی ریاست کو اگلے چند ماہ کے دوران تسلیم کر لیا جائے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی یہ پیش رفت ماہ جون میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ہو گی۔ یہ کانفرنس اسرائیل اور فلسطینی تنازعے کو طے کرنے لے لیے ہو گی۔
فرانس کے صدر نے کہا ' ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم اس کانفرنس کی سعودی عرب کے ساتھ مل کر صدارت کریں گے۔ امکان ہے کہ اس موقع پر کئی ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں گی۔'
انہوں نے کہا ' میں یہ کروں گا۔' کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ ایک درست قدم ہو گا۔' ۔ اس سلسلے میں اجتماعی حرکیات میں شرکت کر سکوں گا۔' یہ ان تمام ملکوں کے لیے ایک موقع ہو گا جو فلسطین کو تسلیم
کرنا چاہتے ہوں گے۔ '
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ' فرانس بہت واضح ہے کہ وہ ان سب کے خلاف لڑے گا جو اسرائیل کے وجود کا حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جیسا کہ اہران کی سوچ ہے۔ '
واضح رہے فرانس ایک طویل عرصے دورہاستی حل کا حامی ہے۔ لیکن فرانس نے ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔ اب جب اس نے کہا ہے کہ فرآمس ماہ جون میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا تو یہ دنیا بھر میں ایک غیر معمولی طور کی پالیسی میں تبدیلی سمجھی جائے گی۔