’’لعنت ہے‘‘: نیتن یاہو کے بیٹے کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ کرنے والے میکرون کو جواب

فرانسیسی صدر میکرون نے فرانس کی جانب سے فلسطینی کو تسلیم کرنے کے متعلق "غلط معلومات" کی مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیٹے نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ’’ ایکس‘‘ پر میکرون کے بیانات کا جواب دیا اور فرانسیسی کالونیوں کے ناموں کی فہرست اور ان کی آزادی کا مطالبہ کردیا۔

ہفتے کی رات یائر نیتن یاہو نے ’’ ایکس‘‘ پر میکرون کے پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا، "لعنت ہے... جی ہاں نیو کیلیڈونیا کی آزادی کے لیے۔ ہاں فرانسیسی پولینیشیا کی آزادی کے لیے۔ ہاں کورسیکا کی آزادی کے لیے۔ ہاں باسکی ملک کی آزادی کے لیے۔ جی ہاں مغربی افریقہ میں فرانس کے نئے گوشے میں سامراج کی آزادی کے لیے۔۔"

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطینی ریاست کو فرانس کے ممکنہ طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے "غلط معلومات" کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ خطے میں امن کے حصول کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔

میکرون نے ‎‎’’ ایکس‘‘ پر شائع ہونے والی کچھ معلومات میں درستی کے فقدان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ کے حوالے سے ہمارے ارادوں کے بارے میں مخفات اور اشتعال انگیزی کو قبول نہ کیا جائے۔ غلط معلومات اور ہیرا پھیری کے پھیلاؤ میں تعاون سے گریز کیا جائے اور متحد رہا جائے۔

میکرون نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان جون میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی کانفرنس کے دوران کیا جا سکتا ہے۔

فلسطینی ریاست کو تقریباً 150 ممالک نے تسلیم کر رکھا ہے۔ مئی 2024 میں آئرلینڈ، ناروے اور سپین نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد جون میں سلووینیا نے تسلیم کیا۔ تاہم دو ریاستی حل کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے مسلسل مسترد کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں