امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران بات چیت کا خواہاں ہے، اور انھیں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کی شام اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی سے ملاقات کے دوران کہی۔ جب ان سے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کی ایک رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ روک دیا۔ تو ٹرمپ نے کہا کہ "میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے حملہ روک دیا، لیکن مجھے اس پر عمل درآمد کی کوئی جلدی نہیں، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے پاس ایک عظیم ریاست بننے کا موقع ہے۔"
"نیویارک ٹائمز" نے بدھ کے روز امریکی انتظامیہ کے عہدے داران اور دیگر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکی صدر نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کی جانب سے ایک مربوط حملے کے منصوبے کی مخالفت کی ... اور اس کے بجائے تہران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی تا کہ اس کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے مئی کے مہینے میں حملے کے لیے منصوبہ تیار کیا تھا، جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ایک سال یا اس سے زیادہ کے لیے مؤخر کرنا تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یہ ایک بہت سادہ بات ہے، ہم ان کی صنعت پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، نہ ان کی زمین پر قبضہ چاہتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ آپ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے"۔
ایرانی ایک عظیم قوم ہیں
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا: کہ "میں چاہتا ہوں کہ ایران خوشی کے ساتھ اور بغیر ہلاکت زندگی گزارے، میں چاہتا ہوں کہ یہ میرا پہلا انتخاب ہو۔ دوسرا انتخاب ایران کے لیے بہت بُرا ہوگا۔"
انہوں نے مزید کہا "مجھے لگتا ہے کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسا ہو۔ اگر وہ یہ قدم اٹھاتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت اچھا ہوگا۔ میں ایران کو مستقبل میں خوش حال دیکھنا چاہتا ہوں۔"
ٹرمپ نے کہا کہ "میں ایرانی عوام کو جانتا ہوں۔ وہ ایک عظیم قوم ہیں، ہمیشہ ذہین، پُرجوش اور کامیاب ... میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا جس سے کسی کو نقصان پہنچے۔"
یاد رہے کہ ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی مہم دوبارہ شروع کر دی تھی اور اس پر پابندیاں سخت کر دی تھیں۔
ایران کے ساتھ نئے معاہدے کی کوشش
دریں اثنا ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نیا جوہری معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا، تو ایران کو ثانوی پابندیوں بلکہ "بم باری" کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں اسرائیل بھی شریک ہو گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان پہلی مذاکراتی نشست رواں ماہ 12 اپریل کو عمان کے دار الحکومت مسقط میں منعقد ہوئی۔ فریقین نے اسے "تعمیری اور مثبت" قرار دیا۔ دوسری نشست کل بروز ہفتہ، 19 اپریل کو اٹلی کے دار الحکومت روم میں ہونی ہے، اس میں بھی عمان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یورپی پابندیوں کی بحالی
دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبيو نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے سلسلے میں جلد ایک "اہم فیصلہ" کرنا چاہیے۔ یہ بیان انہوں نے جمعہ کے روز دیا، جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔
روبيو نے پیرس کے قریب لوبورجیے ایئرپورٹ پر یورپی ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ "یورپیوں کو جلد ہی ایک بڑا فیصلہ کرنا ہو گا۔ ہمیں توقع ہے کہ جلد ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ایک رپورٹ آنے والی ہے، جس میں یہ کہا جائے گا کہ ایران نہ صرف معاہدے کی شرائط پوری نہیں کر رہا، بلکہ وہ جوہری ہتھیار کے حصول کے انتہائی قریب ہے، جتنا اسے سے پہلے کبھی نہ تھا۔"