منگل کے روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سیاحتی وادی پیساران میں پہلگام قصبے کے قریب ہونے والے مہلک حملے کے بعد کئی دنوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد نے "جنگ کا عمل" شروع کرنے کی دھمکی دی ہ ۔ نئی دہلی نے دونوں ملکوں کے درمیان دیگر موجودہ معاہدوں کو ختم کرنے، اپنی فضائی حدود بند کر کے اور تجارت معطل کرنے کا کہا تھا۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے شہریوں کو بے دخل کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔
1947 سے
اس خطے کا یہ تنازع کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ 1947 میں برطانیہ کی جانب سے اپنی سابق کالونی ہندوستان کی تقسیم کے فوراً بعد شروع ہوگیا تھا۔ کشمیر کے ہندو حکمران ہری سنگھ نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہشمند مسلم اکثریت کی موجودگی کے باوجود ہندوستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس نے جمود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک معاہدے کی تجویز پیش کی جسے اسلام آباد نے قبول کر لیا اور نئی دہلی نے انکار کر دیا۔ کشیدگی میں اضافہ ہوا اور 1947 میں خطے کے باشندوں اور بھارتی افواج کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ سے بھارت کو خطے کے دو تہائی حصے پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔
ریفرنڈم پر عمل نہیں ہوا
پھر اقوام متحدہ بحران میں داخل ہوا اور سلامتی کونسل نے اگست 1948 میں ایک قرارداد جاری کی جس میں خطے کی تقدیر کا تعین کرنے کے لیے جنگ بندی اور ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے تجویز پیش کی کہ مسلم اکثریتی حصے پاکستان میں شامل ہو جائیں اور ہندو اکثریت والے حصے بھارت میں شامل ہو جائیں لیکن اس تجویز پر عمل نہیں ہوا۔ اس کے بعد سے بھارت اور پاکستان اس خوبصورت خطے پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔
دریں اثنا 2019 کے ایک خودکش بم دھماکے نے جس میں درجنوں ہندوستانی فوجی تقریباً ہلاک ہوئے نے دونوں ملکوں کو ایک مکمل جنگ کے خطرے کی طرف دھکیل دیا تھا۔ خاص طور پر جب سے ہندوستان نے پاکستان کے حمایت یافتہ جیش محمد گروپ پر اس خود کش حملے کا الزام لگا دیا تھا۔
متنازعہ کشمیر کا علاقہ بھارت کے شمال مغرب، پاکستان کے شمال مشرق اور وسطی ایشیا میں چین کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ تاریخی طور پر ہمالیہ کے جنوب میں مغربی جانب میدانی علاقہ کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ یہ خطہ 242,000 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس کی آبادی 15 ملین سے زیادہ ہے۔ کشمیر میں ایک تخمینے کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 90 فیصد ہے۔ 8 فیصد ہندو اور ایک فیصد بدھ مت کے ماننے والے ہیں۔ دریائے سندھ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر میں سرحد کی حد بندی کرتا ہے۔