بھارت : ہوٹل میں خوف ناک آگش زدگی ، لوگوں نے کھڑکیوں سے راہ فرار اختیار کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کے شمالی شہر کولکتہ میں ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔

شہر کے پولیس چیف منوج کمار ورما نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "اب تک 15 افراد مر چکے ہیں، ان میں دو بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہے"۔

انھوں نے مزید بتایا کہ "12 افراد جھلس کر زخمی ہوئے ہیں"۔

آگ منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق 8 بجے کے قریب شہر کے مرکز میں واقع ہوٹل رِتُوراج میں لگی جو 42 کمروں پر مشتمل ہے۔
آگ لگنے کے وقت ہوٹل میں 88 مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ کولکتہ شہر کی آبادی تقریباً 1.5 کروڑ ہے۔

پولیس چیف کے مطابق آگ لگنے کے بعد پورا ہوٹل دہکتے ہوئے تنور میں تبدیل ہو گیا ... اور لگتا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیں۔

امدادی ٹیموں نے ہوٹل کی چھت پر پناہ لینے والے 20 افراد کو بچا لیا، جب کہ فائر بریگیڈ نے اندر سے مزید 5 افراد کو نکالا۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، کئی افراد کو ہوٹل کی تنگ کھڑکیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔

ایجنسی نے ہوٹل کی ویڈیوز نشر کیں جن میں عمارت کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار "ٹیلی گراف" کے مطابق، کم از کم ایک شخص اپنی جان بچانے کے لیے بالکونی سے چھلانگ لگانے کے باعث ہلاک ہوا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

بھارت میں عمارتوں میں آتش زدگی کے واقعات عام ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں ناقص حفاظتی انتظامات اور قوانین کی عدم پابندی شامل ہے۔

گذشتہ سال بہار کے شہر پٹنہ کے ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ میں بھی چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں