اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کے منصوبے کے ساتھ، محصور اور تباہ حال فلسطینی علاقے میں امداد کی تقسیم کے متعلق نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق، جیسے ہی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں وسعت اختیار کریں گی، دو امریکی کمپنیاں ... "سیف رِچ سولیوشنز" اور "یو جی سولیوشنز" ... غذائی امداد کی تقسیم کی ذمے داری سنبھال لیں گی۔ یہ وہی کمپنیاں ہیں جنھوں نے جنوری میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے کے دوران غزہ کے جنوبی علاقے سے شمالی حصے کی جانب جانے والی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی نگرانی کی تھی۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ان کمپنیوں کے بیشتر ملازمین کا پس منظر فوج، اسپیشل فورسز یا سی آئی اے جیسے اداروں سے ہوتا ہے، جو انھیں پیچیدہ ذمے داریاں سنبھالنے کے قابل بناتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، امداد کی تقسیم کے لیے غزہ کے مختلف حصوں میں عارضی دفاتر قائم کیے جائیں گے، اور مقامی لوگ ہفتے میں ایک بار آ کر امدادی پیکج حاصل کریں گے، جو سات دن کے لیے کافی اشیائے خورد و نوش پر مشتمل ہو گا۔
تاہم ابھی بھی کئی پیچیدگیاں باقی ہیں جنھیں حل کرنا ضروری ہے، جیسا کہ روزانہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد، امداد کی تقسیم کا طریقہ کار، اور خوراک فراہم کرنے والے ادارے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے ریڈیو CAN نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایک منصوبہ زیرِ غور ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے بجائے نجی غیر ملکی کمپنیاں امداد تقسیم کریں گی۔ یہ امداد غزہ کے جنوبی شہر رفح میں ایک نئے انسانی علاقے میں دی جائے گی، جہاں سیکیورٹی چیک کے بعد شہریوں کو منتقل کیا جائے گا۔
انسانی خدشات
دوسری طرف، اقوام متحدہ نے اسرائیل کی طرف سے فوجی کنٹرول میں امداد پہنچانے کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اسے "سنگین انسانی خدشات" کا باعث قرار دیا ہے۔
غزہ میں اقوام متحدہ کی انسانی امور سے متعلق ٹیم نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرے گا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر خوراک و دیگر ضروری اشیاء پر قابو حاصل کرنے کے لیے بطور فوجی دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں شہریوں کو فوجی علاقوں میں آ کر امداد لینا پڑے گی، جس سے ان کی اور امدادی کارکنوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا۔ اس کے علاوہ کمزور اور نقل و حرکت سے محروم افراد تک امداد پہنچنے میں شدید مشکلات ہوں گی، اور اس عمل سے جبری نقل مکانی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے تجویز کردہ ترسیلی نظام کو اقوام متحدہ کی منظوری درکار ہو گی، تاکہ اسرائیلی چیک پوسٹوں سے امدادی سامان گزر سکے، اور یہ سب کچھ اسرائیلی فوج کی مقرر کردہ شرائط کے تحت ہو گا۔
یہ ساری صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے مارچ کے آغاز سے غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ مکمل طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث خوراک، صاف پانی اور ادویات کی ترسیل رک چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے اہل کاروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے شہری بھوک کا شکار ہیں اور اسپتال مریضوں اور زخمیوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ محاصرہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ وہ باقی یرغمالیوں کو رہا کرے۔
واضح رہے کہ امداد کا معاملہ اسرائیلی قیادت اور دفاعی اداروں کے مابین اندرونی اختلافات کا باعث بنا ہوا ہے۔ کچھ سیاست دان غزہ پر مستقل قبضہ کر کے فوج کے ذریعے امداد تقسیم کروانے کے حامی ہیں، جب کہ فوج اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔