ٹرمپ کا دباؤ: کولمبیا یونیورسٹی میں ہنگامہ خیز صورتحال جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں بین الاقوامی طالبہ بلیانا امتحانات کے لیے پڑھ رہی ہیں لیکن انہیں امیگریشن پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو جانے کا خدشہ ہے۔

کولمبیا کے پروفیسر اس دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کر کے ریسرچ فنڈز بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

سمسٹر ختم ہونے کے ساتھ کیمپس پر بحران کی فضا منڈلا رہی ہے کیونکہ وائٹ ہاؤس نے ممتاز یونیورسٹی اور آئیوی لیگ کے دیگر سکولوں پر یہود دشمنی اور نسلی امتیاز کے جدت پسندانہ نظریہ "سے متعلق بیداری پیدا ہونے" کا الزام لگایا ہے۔

ملک کے طول و عرض میں کئی سو غیر ملکی طلباء کو ان کے ویزوں کی منسوخی کا خدشہ ہے جبکہ دیگر کو فلسطینی حامی مظاہروں میں شرکت سے لے کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں تک ہر چیز پر نشانہ بنایا گیا ہے - اور چند ایک کو بشمول کولمبیا میں گرفتار کیا گیا ہے۔

قانون کی 29 سالہ طالبہ بلیانا اس قدر خوف محسوس کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنا اصلی نام حتیٰ کہ اپنے آبائی لاطینی امریکی ملک سے شناخت تک ظاہر نہ کرنے کو کہا۔ وہ کہتی ہیں، "صورتِ حال خوفناک ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کچھ کہہ نہیں سکتے، کچھ بھی پوسٹ نہیں کر سکتے۔"

اس نے مزید کہا: "میں اور میرے دوست، ہم ٹویٹر پر کچھ بھی پوسٹ نہیں کر رہے۔ اور بہت سے لوگ ایک غیر مرئی سرخ لکیر کو عبور کرنے کے خوف سے پرانی پوسٹس کو حذف کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر ہم جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ صرف نارمل طریقے سے کلاس لینا ہے۔"

گذشتہ ہفتے فائنل امتحانات قریب ہونے کے ساتھ 80 فلسطینی حامی مظاہرین کو مرکزی لائبریری پر قبضہ کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔

یونیورسٹی کی عبوری صدر نے فوری طور پر احتجاجی کارروائی کی مذمت کی۔

بلیانا نے کہا، وہ اس قسم کے مظاہروں سے دور رہنے کو یقینی بناتی ہیں اس خوف سے کہ وہ کسی تصویر میں نہ نظر آ جائیں اور انہیں اس گروپ سے غلط طور پر منسلک دیا جائے۔

امریکی سکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا، حکام ملوث "بدمعاشوں" کے ویزا کی حیثیت کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید کہا: "ہماری عظیم قوم میں حماس کے حامی ٹھگوں کا مزید خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔"

نو منتخب طلباء انجمن کے صدر آسکر وولف کے لیے "مظاہروں میں شمولیت سے قطع نظر بین الاقوامی طلباء میں خاصی بے چینی ضرور ہے۔"

وولف ستمبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز سے قبل ہی کیمپس پہنچےتھے۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس کی "نارمل" زندگی انہوں نے ایک مہینے سے کچھ ہی زیادہ عرصے تک دیکھی۔

ہنگامہ آرائی اور مظاہروں کی بنا پر کولمبیا نے اپنے میدانوں تک عوامی رسائی بہت حد تک ختم کر دی ہے۔ جبکہ یہاں عموماً ہزاروں سیاح اس کے مین ہٹن کیمپس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جس میں ستونوں کی قطاروں والی عمارات، خوبصورتی سے ترتیب دیئے گئے لان اور مادرِ علمی کا مشہور مجسمہ شامل ہیں۔
ایک اور آئیوی لیگ کالج ہارورڈ نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دو بلین ڈالر کی وفاقی گرانٹس روکنے پر اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

کولمبیا اپنی طرف سے حکومت سے مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن بدھ کے روز عبوری صدر کلیئر شپ مین نے اعلان کیا، "ہمارے تقریباً 180 ساتھی جو مکمل یا جزوی طور پر وفاقی گرانٹس پر کام کر رہے ہیں"، اپنی ملازمتوں سے محرومم ہو جائیں گے۔

نفسیات کی پروفیسر ربیکا موہلے نے کہا، آٹزم پر تحقیقی منصوبے کے لیے ان کی گرانٹ "منسوخ نہیں کی گئی لیکن اس کی مالی اعانت نہیں ہے - یہ معاملہ لٹک گیا ہے۔"

موہلے نے مزید کہا، "میں کسی کو نوکری پر نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی کوئی بڑی خریداری کر سکتی ہوں۔ یہ صورتِ حال بہت پریشان کن ہے۔ یہ افراتفری ہے اور آپ افراتفری میں اچھی سائنسی تحقیق نہیں کر سکتے۔"

ریاستی رازوں اور قانون کے مطابق ان کی معلومات ظاہر کرنے میں مہارت رکھنے والے تاریخ کے پروفیسر میتھیو کونلی نے کہا کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ نیشنل انڈومنٹ فار ہیومینٹیز نے دو گرانٹس منسوخ کر دیں جن کی "کوئی حقیقی وجہ نہیں بتائی گئی"۔

انہوں نے کہا کہ گرانٹس کا مقصد معلمین اور دستاویزی ریکارڈ رکھنے والوں کو تاریخی ریکارڈز کا تجزیہ اور انہیں محفوظ کرنے کی تربیت دینا تھا خاص طور پر ڈیجیٹل شکل میں جو "محققین کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔"

لیکن کونلی نے کہا کہ وہ ہار نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہا، "یونیورسٹیز ایک ہدف ہیں کیونکہ ہم جو بھی کرتے ہیں وہ اس کے بالکل برعکس ہے جو ٹرمپ انتظامیہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ہم نے پڑھانا بند کر دیا۔۔۔ اپنی تحقیق کرنا چھوڑ دی تو گویا ہم انہیں کامیاب ہو جانے دیں گے۔"

طلباء کے رہنما وولف بھی اسے ایک وسیع جنگ کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ صرف کولمبیا پر حملہ نہیں ہے۔ یہ سول سوسائٹی کے خلاف ایک حملے کا آغاز ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں