یوکرین میں امن کی کوششوں میں پیش رفت کے لیے ’بے تاب‘ ہیں: امریکہ
روس کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں پابندیاں لگانے پر غور
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن یوکرین اور روس کے درمیان امن کی کوششوں میں پیشرفت کے لیے "بے تاب" ہے اور جنگ کے دیرپا خاتمے کے لیے "عملاً کسی بھی طریقہ کار" پر غور کرنے کو تیار ہے۔
روبیو نے انطالیہ میں نیٹو کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ظاہر ہے کہ ہم اس وقت بہت مشکل مقام پر ہیں اور امید ہے کہ ہم آگے بڑھنے والے اقدامات تلاش کر سکتے ہیں جو مذاکرات کے ذریعے اس جنگ کے خاتمے اور مستقبل میں کسی بھی جنگ کی روک تھام کر سکیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "بہت سا کام کرنا ہے۔ ہم اس کے لیے پُرعزم ہیں۔ ظاہر ہے، ہر کسی کی طرح بے تابی سے ہم یہ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ مشکل ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں، امید ہے کہ جلد ہی اس معاملے میں پیشرفت ہو گی۔"
یہ تبصرے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے سامنے آئے ہیں جن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فریقین پر نتائج کے حصول کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
روبیو نے صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا، "وہ عملی طور پر کسی ایسے طریقہ کار کے لیے تیار ہیں جو ہمیں ایک منصفانہ، پائیدار اور دیرپا امن کی طرف لے جائے اور یہی وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔"
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے اس دوران کہا، وہ یوکرین میں امن کی جانب پیش رفت کے لیے "محتاط طور پر پُرامید" ہیں لیکن یہ روس پر منحصر ہے کہ وہ "اگلے ضروری اقدامات" کرے۔
روٹے نے کہا، "میں اب بھی محتاط طور پر پُرامید ہوں کہ اگر روسی بھی تعاون کرنے پر آمادہ ہوں اور صرف یوکرینی ہی ایسا نہ کریں۔۔ تو آپ اگلے دو ہفتوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ یوکرین جنگ بندی اور فوری مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہ بالکل واضح ہے۔ اب یہ مکمل طور پر روس پر منحصر ہے۔"
روسی صدر ولادیمیر پوتن استنبول میں ہونے والے مذاکرات کو چھوڑنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں جس کی انہوں نے ابتدائی طور پر تجویز دی اور جس میں یوکرین کے رہنما ولادیمیر زیلنسکی نے ذاتی طور پر شرکت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس کے بجائے ماسکو نے سخت گیر سابق وزیرِ ثقافت ولادیمیر میڈنسکی کی سربراہی میں ایک ٹیم استنبول روانہ کر دی ہے۔
روٹے نے کہا، "روس ان امن مذاکرات کے لیے ایک نچلی سطح کا وفد" ترکی بھیج رہا ہے۔ اب اس بات کو یقینی بنانا روسیوں پر منحصر ہے کہ وہ اگلے ضروری اقدامات اٹھائیں۔"
نیٹو کے سربراہ کے پُرامید لہجے کے باوجود یورپی وزرائے خارجہ پیش قدمی کرنے پر روس کی آمادگی کے حوالے سے مایوس تھے۔
فرانس کے ژاں نول باروٹ نے کہا، "ان تکنیکی مذاکرات میں ہم جس چیز کی بہترین امید کر سکتے ہیں وہ درحقیقت جنگ بندی ہے، ایک فوری اور غیر مشروط جنگ بندی جو مناسب امن مذاکرات کو ممکن بنائے۔"
انہوں نے اصرار کیا کہ انہی "بھندوں" سے بچنے کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے 2022 میں مذاکرات ناکام ہوئے۔ انہوں نے اس سے بھی خبردار کیا کہ اگر کریملن تعاون نہ کرے تو یورپ روس کے مالیات اور توانائی کے شعبوں پر "وسیع پیمانے پر" پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔