اسرائیل نے بعض یورپی ممالک پر اس کے خلاف اکسانے کا الزام عائد کیا ہے اور واشنگٹن میں یہودی عجائب گھر کے قریب ہونے والے حملے کو "یہود دشمنی پر مبنی جرم" قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے تصدیق کی ہے کہ "دنیا بھر میں ہمارے ملک کے نمائندے دہشت گردی کا ہدف ہیں"۔ انھوں نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا "میں دنیا کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل کے خلاف اکسانے سے باز آئیں"۔ جدعون نے کئی یورپی ممالک پر اپنے ملک کے خلاف اکسانے کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے مزید کہا "یہ اکسانا کئی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے قائدین اور ذمے داران کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے، بالخصوص یورپ میں"۔
دہشت گردی ہمارا پیچھا کر رہی ہے
ساعر کا کہنا تھا کہ "یہودیوں کے خلاف پروپیگنڈے اور واشنگٹن میں ہونے والی ہلاکت کے درمیان براہِ راست تعلق ہے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "دہشت گردی ہر جگہ اسرائیل کا پیچھا کرتی ہے، لیکن ہم اس کے سامنے ہر گز سر نہیں جھکائیں گے"۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج جمعرات کے روز کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن میں ہونے والا حملہ اسرائیل کے خلاف شدت پسندانہ اشتعال کا ثبوت ہے۔ انھوں نے اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتی مشنوں میں حفاظتی اقدامات کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی، کیوں کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے ہیں۔
نیتن یاہو نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ "یہود دشمنی اور اسرائیل کے خلاف شدت پسندانہ اکسانے کے خلاف بھرپور انداز میں جنگ جاری رکھیں گے"۔
ادھر اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ نے "اس قاتلانہ حملے پر اپنے صدمے کا اظہار کیا"۔ اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں انھوں نے کہا "یہ ایک گھٹیا عمل ہے جو نفرت اور یہود دشمنی کو ظاہر کرتا ہے... دہشت گردی اور نفرت ہمیں کبھی شکست نہیں دے سکتے"۔
واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یحیئیل لیٹر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد، ایک مرد اور ایک عورت، شادی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
کالاس کی جانب سے مذمت
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ذمے دار کایا کالاس نے اس حملے پر "صدمے" کا اظہار کیا، جس میں امریکا میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔ انھوں نے "ایکس" پر لکھا: "ہماری معاشروں میں نفرت، شدت پسندی اور یہود دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے"۔
اٹلی اور فرانس نے بھی اس حملے کی مذمت کی، جب کہ جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز نے اسے سختی سے "قابلِ نفرت اقدام" قرار دیتے ہوئے مذمت کی، اور چین نے بھی اسی طرح مذمت کی۔ فرانسیسی وزارت داخلہ نے ملک میں یہودی مقامات کے گرد سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی۔
فلسطین کی آزادی
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایک شخص کو یہودی عجائب گھر کے باہر چہل قدمی کرتے دیکھا گیا، اور پھر اس نے فائرنگ کی، جس سے ایک مرد اور ایک عورت زخمی ہوئے۔
واشنگٹن پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کا نام الیاس روڈریگز ہے، عمر 30 سال ہے، اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک وڈیو میں ایک نوجوان کو دیکھا جا سکتا ہے جو گرفتاری کے وقت "فلسطین کو آزادی دو" کا نعرہ لگا رہا تھا۔
یہ اسرائیلی بیانات اس وقت سامنے آئے جب یورپ کی جانب سے تل ابیب پر، بالخصوص غزہ کی پٹی میں اس کے محاصرے کی پالیسی پر، تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔