ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ نے اتوار کو غزہ میں "مظالم" کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر "بے حسی اور دوہرے معیار" کی عکاسی کرتے ہیں۔
محمد حسن نے علاقائی آسیان بلاک کے ہم منصبوں کو بتایا، "یہ بین الاقوامی قانون کے تقدس کے خاتمے کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔"
محمد کے تبصرے پیر کو کوالالمپور میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس سے پہلے اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے اس ماہ جنگ زدہ غزہ میں اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
اس بمباری پر اسرائیل کو بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کی طرف سے مکمل ناکہ بندی میں جزوی نرمی کے بعد مزید امداد کی اجازت دینے کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں۔
"آسیان خاموش نہیں رہ سکتا،" محمد نے کہا جن کا ملک بلاک کا موجودہ سربراہ ہے۔
فروری میں 10 رکنی ایسوسی ایشن کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی "دیرینہ حمایت" پر زور دیا تھا۔
مسلم اکثریتی ملائیشیا کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں بہت زیادہ لوگ فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کوالالمپور نے غزہ میں فلسطینیوں کے لیے 10 ملین ڈالر سے زیادہ کے عطیات اور انسانی امداد فراہم کی ہے۔