ناروے: فنڈز کی اسرائیل کو ترسیل اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ناروے کے جاری کردہ فنڈز کے استعمال کے اخلاقی پہلو کا جائزہ لینے والے ادارے نے اسرائیلی بنکوں کے ساتھ ناروے کے معاملات پر از سر نو غور کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ان فنڈز کا استعمال اخلاقی حدود و قیود اور اخلاقی اقدار کے تحت ہو رہا ہے یا نہیں۔

اس سلسلے میں ناروے کا 'واچ ڈاگ' کا ادارہ یہ بھی دیکھے گا کہ اسرائیلی بنک ناروے کے فراہم کردہ فنڈز کو مقبوضہ مغربی کنارے میں استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔ اندازہ ہے کہ ان کا یہ جائزہ 500 ملین ڈالر نارویجن فنڈ کے استعمال کے حوالے سے ہوگا۔

ناروے میں قائم یہ ادارہ اخلاقی مجلس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ وزارت خزانہ کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا کام ان کمپنیوں کے پورٹ فولیوز یا دائرہ کار کو دیکھنا ہوتا ہے جن کے ساتھ نارویجین فنڈ ڈیل کرتا ہے۔ تاکہ ناروے کی پارلیمان کو اپنے جائزہ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کی رپورٹ کر سکے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' سے ایک انٹرویو میں نارویجن اخلاقی مجلس کے سربراہ سوین رچرڈ برینڈ زنارب نے کہا وہ اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اسرائیلی بنک یہودی آبادکاروں کے پیسوں کی کس طرح ضمانت دیتے ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنا گھر بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں ابھی تک ہم یہی دیکھ سکے ہیں اور مزید طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اس جائزہ میں کتنا وقت درکار ہوگا۔ نیز انہوں نے بینکوں کے ناموں کا بھی تذکرہ نہیں کیا۔

تاہم صرف یہ معلوم ہو سکا ہے کہ سال 2024 کے اختتام پر بنک میں اسرائیلی قرض دہندگان کے حصص میں تقریباً 500 ملین ڈالر موجود تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ حصص ایک سال میں 62 فیصد سے زائد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں