پوپ لیو چہاردہم کے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ خطبات کی یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر بھرمار

کئی یوٹیوب اور ٹک ٹاک چینلز کے خلاف اطلاعات اور بندش کی کارروائی ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پوپ لیو کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز اور آڈیو کلپس تیزی سے آن لائن زیرِ گردش ہیں اور پلیٹ فارمز انہیں کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اے ایف پی نے ایک تحقیقات میں ایسے درجنوں یوٹیوب اور ٹک ٹاک پیجز کی نشاندہی کی ہے جن پر پوپ کی آواز میں یا ان سے منسوب کردہ اے آئی سے تیار کردہ پیغامات بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

مختلف زبانوں میں سینکڑوں وڈیوز اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ جعل سازی کتنی آسانی سے لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتی اور انہیں دھوکہ دے سکتی ہے۔

جب اے ایف پی نے یوٹیوب کو اطلاع دی تو پلیٹ فارم نے ان میں سے 16 چینلز کو سپام، فریب کاری، پالیسیوں کی خلاف ورزی اور دوسروں کو شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر ختم کر دیا۔

اسی طرح ٹک ٹاک نے 11 اکاؤنٹس ہٹا دیئے جن کی اے ایف پی نے نشاندہی کی۔

لیکن عموماً ایسے مواد کے تخلیق کاروں کو تلاش کرنا اکثر مشکل ہوتا تھا — اور بعض اوقات ان کا وجود ہی نہیں ہوتا۔

اے ایف پی کی نشان دہی پر یوٹیوب چینلز کو غیر فعال کیے جانے سے پہلے ان کے کئی کلپس دسیوں ہزار افراد دیکھ چکے ہیں۔

ٹک ٹاک پر پوپ کی بعض ویڈیوز کو دس دس ملین یا اس سے زیادہ ویوز ملے ہیں جبکہ ان کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر کسی بھی ویڈیو کو چھے ملین سے زیادہ ویوز نہیں ملے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بظاہر بے ضرر جعلی مواد بھی پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے جو بعد میں دوسری غلط معلومات اپنے سامعین کو فروخت کر سکتے یا ان کا مرکز بن سکتے ہیں۔

خود پوپ نے بھی اے آئی کے خطرات سے خبردار کیا ہے جبکہ ویٹیکن نیوز نے بھی پوپ کی ایک ڈیپ فیک ویڈیو کی نشاندہی کی۔

اے ایف پی نے امریکہ اور پیرو کی شہریت کے حامل پوپ کے دیگر ایسے جعلی کلپس بھی بے نقاب کیے جن میں وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اور پیرو کی صدر ڈینا بولوارٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔

سانتا کلارا یونیورسٹی ٹیکنالوجی کی اخلاقیات کے ڈائریکٹر برائن پیٹرک گرین نے کہا، "یہاں ایک حقیقی بحران ہے۔ ہمیں یہ جاننے کے لیے کوئی طریقہ معلوم کرنا ہو گا کہ چیزیں اصلی ہیں یا جعلی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں