لاس اینجلس میں احتجاج کے دوران صدر ٹرمپ کا دو ہزار نیشنل گارڈز اہلکار تعیناتی کا حکم

امیگریشن چھاپوں کیخلاف لاس اینجلس میں پُرتشدد مظاہرے، 33 سال میں پہ بار نیشنل گارڈز کو مدد کے لئے بلایا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے لاس اینجلس میں وفاقی اہلکاروں، امیگریشن چھاپوں کے بعد مظاہروں کے بعد دو ہزار نیشنل گارڈ فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے خبردار کیا کہ اگر لاس اینجلس میں تشدد جاری رہا تو پینٹاگون ایکٹیو ڈیوٹی فوجیوں کو بھی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، جو قریبی کیمپ پینڈلٹن میں موجود میرینز ’ہائی الرٹ‘ پر ہیں۔

ہفتے کے روز احتجاج میں شریک تقریباً 100 مظاہرین کو پیرا ماؤنٹ علاقے میں وفاقی ایجنٹس کے ساتھ تنازع کا سامنا تھا، جہاں بعض مظاہرین میکسیکن پرچم لہرا رہے تھے اور کچھ نے ماسک پہن رکھے تھے۔ ہفتے کی رات شہر کے وسطی حصے میں ہونے والے دوسرے مظاہرے میں تقریباً 60 افراد شریک ہوئے، جو نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین نے میکسیکو کے پرچم اٹھا رکھے تھے: رائیٹرز
مظاہرین نے میکسیکو کے پرچم اٹھا رکھے تھے: رائیٹرز

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے ایک صدارتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت نیشنل گارڈ فوجیوں کو ’اس قانون شکنی کے خاتمے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے جسے پنپنے دیا گیا‘، ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر اہلکار ٹام ہومن نے ’فاکس نیوز‘ کو بتایا کہ نیشنل گارڈ ہفتے کے روز لاس اینجلس میں تعینات ہوں گے۔

ٹرمپ کے بارڈر امور کے مشیر ٹام ہو مین نے نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈز ہفتے کی شام لاس اینجلس پہنچ گئے ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے کو جان بوجھ کر اشتعال انگیز قرار دیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ ٹرمپ نیشنل گارڈ کو اس لیے تعینات کر رہے ہیں کہ تماشا ہو، حالاں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کم نہیں، انہیں ’تماشے‘ کا موقع نہ دیں، کبھی بھی تشدد کا سہارا نہ لیں، پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ ٹرمپ نیشنل گارڈ کو اس لیے تعینات کر رہے ہیں کہ تماشا ہو، حالاں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کم نہیں، انہیں ’تماشے‘ کا موقع نہ دیں، کبھی بھی تشدد کا سہارا نہ لیں، پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔

ادھر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اگر مقامی حکام اپنا کام نہیں کر پاتے تو وفاقی حکومت مداخلت کرے گی۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر نیوسم اور لاس اینجلس کی میئر کیرن باس اپنا کام نہیں کر سکتے تو وفاقی حکومت مداخلت کرے گی، اور فسادات و لوٹ مار کے مسئلے کو اس طریقے سے حل کرے گی جس طرح کیا جانا چاہیے!۔

مظاہرے ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام لاس اینجلس اور ٹرمپ کی ریپبلکن انتظامیہ کے درمیان امیگریشن پر شدید اختلافات کو عیاں کر رہے ہیں۔

یہ مظاہرے ڈیموکریٹس کے زیرانتظام لاس اینجلس (جہاں مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بڑی تعداد میں ہسپانوی اور غیر ملکی نژاد آبادی موجود ہے) کو ٹرمپ کی ریپبلکن وائٹ ہاؤس کے مقابل لا رہے ہیں، جس نے امیگریشن پر سختی کو اپنی دوسری مدت کی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا رکھا ہے۔

جمعہ کو شروع ہونے والے احتجاج کے دوران، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹس نے کم از کم 44 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر نے ان مظاہروں کو قانون اور امریکی خودمختاری کے خلاف بغاوت قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں