مشرق وسطیٰ کی طرف جنگی طیارے سامان بھیج رہے ہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ہفتے کے روز جی 7 مذاکرات میں شرکت کے لیے کینیڈا روانہ ہوتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے درمیان برطانیہ مشرق وسطیٰ کو سامان بھیج رہا ہے۔

اسٹارمر نے اپنے ساتھ موجود نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم ہنگامی امداد کے مقاصد کے لیے جنگی طیاروں سمیت خطے میں سامان بھیج رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل نے ہفتے کے روز میزائل فائر اور فضائی حملوں کا تبادلہ کیا ۔ اس سے ایک روز قبل اسرائیل کے ایران پر حملوں میں ایرانی فوجی رہنماؤں اور سائنسدانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی حملوں میں ایران کے جوہری مقامات پر بھی بمباری کی گئی۔

برطانیہ کے پاس پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں لڑاکا طیارے عراق اور شام میں خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشن کے حصے کے طور پر موجود ہیں۔ سٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ فضائی عملے نے جمعہ کی صبح تعیناتی کی تیاری اس وقت شروع کردی جب یہ واضح ہو گیا کہ خطے میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی اڈوں میں اضافی ایندھن بھرنے والے طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ اسی طرح لڑاکا طیارے تعینات کیے جاتے رہیں گے۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں سٹارمر نے کہا کہ انہوں نے جمعہ کو ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے پہلے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے بات کی ہے۔ سٹارمر نے صورتحال کو تیزی سے تبیدل ہونے والا اور بہت کشیدہ قرار دیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر وقت بات چیت میں رہتے ہیں۔ وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایرانیوں سے بھی بات کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ مسلسل تناؤ کو کم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے لہذا ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں اور ہماری تمام بات چیت کا تعلق کشیدگی میں کمی سے ہے۔ سٹارمر نے جمعہ کو اپنے اسرائیلی ہم منصب کے ساتھ اپنی بات چیت کو اچھی اور تعمیری قرار دیا تھا۔ ہفتے کے روز ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ وہ تشویش میں ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر اس کشیدگی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں