ٹرمپ اور پیوٹن کی فون پر پچاس منٹ گفتگو، پیوٹن کی طرف سے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پچاس منٹ طویل فون کال کی ہے۔ فون پر ہونے والی گفتگو کا محور ایران پر اسرائیلی حملہ اور اس سے خطے کے لیے پیدا ہونے والی صورت حال پر اظہار تشویش تھا۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے حملے میں پہل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس تصادم کو روکنے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے۔

کریملن میں معاون یوری اوشاکوف نے دونوں بڑوں کی اس فونک گفتگو کے بعد کہا صدر پیوٹن نے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا اسرائیلی اقدام سے خطرہ ہے کہ تصادم پھیل جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ' ٹروتھ سوشل ' پر کہا تبادلہ خیال کا مرکز مشرق وسطی ہی رہا۔ تاہم صدر پیوٹن سے بھی کہا گیا کہ یوکرین میں جاری جنگ بھی روکی جانی چاہیے۔

اوشاکوف کے مطابق ولادی میر پیوٹن نے اسرائیلی جنگی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے سخت تشویش ظاہر کی کہ یہ معاملہ پھیلی ہوئی کشیدگی کی صورت ناقابل تصور مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ نیز پورے مشرق وسطی میں صورت حال بگڑ سکتی ہے۔

پیوٹن نے مشرق وسطی کے واقعات کو بہت ' الارمنگ' قرار دیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ صورت حال مذاکرات کے ذریعے بہتر کیا جا سکتا ہے اور ایرانی جوہری پروگرام کا معاملہ بھی بات چیت سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔

اوشاکوف نے یہ بھی کہا امریکی مذاکرات کار ایران کے جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کے لیے تیار تھے۔ یہ بات چیت ہفتے کے روز اومان کے دارالحکومت میں ہونے والی تھی۔ مگر اسرائیلی حملے کے بعد منسوخ کر دی گئی۔

روسی معاون اوشاکوف نے کہا صدر پیوٹن نے امریکی صدر کو بتایا ہے کہ روس اس کشیدگی کو کم۔کرنے کی تجاویز کے ساتھ کھڑا ہوگا اور ایرانی جوہری پروگرام کا معاملہ بھی طے کرنے کی حمایت کرتا ہے مگر بات چیت کے ساتھ۔

انہوں نے بتایا روسی صدر نے فون پر بات چیت کے دوران یہ بھی یاد دلایا کشیدگی میں اضافہ کیے جانے سے پہلے ہماری طرف سے ٹھوس تجاویز دی گئی تھیں۔ ان تجاویز کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام پر امریکی و ایرانی نمائندوں کی باہمی بات چیت کو قابل قبول سمجھوتے کی طرف لانا تھا۔

آج بھی روس کے اصولی مؤقف اور مسئلے کے حل کے لیے دلچسپی میں کوئی تبدیلی یا کمی نہیں ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا اس گفتگو میں ہر وہ چیز اب بھی شامل تھی جو انہوں نے اس سے پہلے اپنی واضح اپیل میں کہی تھی کہ دشمنی ختم کی جائے۔

ٹرمپ نے لکھا 'یہ فون کال تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ پیوٹن اور میں دونوں سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کی یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ اس بارے میں میری طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ یوکرین میں اس کی جنگ بھی ختم ہونی چاہیے۔'

ٹرمپ نے مزید کہا ' میں نے اور پیوٹن نے زیادہ تر مشرق وسطیٰ پر ہی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بر عکس یوکرین کی جنگ پر تھوڑے وقت کے لیے بات چیت ہو سکی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اگلے ہفتے کے دوران یوکرین جنگ پر بھی تفصیلی بات چیت کا اشارہ دیا ہے۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'آر آئی اے ' کے مطابق یوکرین کے بارے میں اسکوف نے کہا کہ پیوٹن نے امریکی رہنما کو بتایا کہ روس 22 جون کے بعد یوکرینیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

صدر پیوٹن نے اس فون کال پر صدر ٹرمپ کو ان کی 79 ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں